’ شہر سدھار اگھاڑی‘ کی شاردا کھیڈکر میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ پر امول گوگے کا انتخاب، کانگریس اور ایم آئی ایم کارپوریٹروں میں لفظی جھڑپ۔
اکولہ میونسپل کارپوریشن کامیٹنگ ہال اور فرش پر پڑی ہوئی چوڑیاں۔ تصویر: آئی این این
یہاں بی جے پی کی زیرقیادت ’شہر سدھار اگھاڑی‘ اپنا میئر اور ڈپٹی میئر بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ میو نسپل کارپوریشن کے جنرل میٹنگ ہال میں منعقدہ انتخابی اجلاس میں ہائی وولٹیج ڈراما دیکھا گیا۔ بی جے پی کی شاردا رنجیت کھیڈکر کو صدر بلدیہ اور امول گوگے کو نائب صدر بلدیہ کے طور پر منتخب کیا گیا۔
میئر عہدہ کیلئے انتخاب میں شہر سدھار اگھاڑی کی شاردا کھیڈکر کو ۴۵؍ووٹ ملے، جبکہ مہاوکاس اگھاڑی میں شیو سینا (اُدھو ٹھاکرے) گروپ کی سوریکھ منگیش کالے کو ۳۲ ؍ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ایم آئی ایم کے ۳؍ کارپوریٹر غیر جانبدار رہے۔ میئر کے عہدہ کےلئے شہر سدھار اگھاڑی کے ووٹوں کی تعداد ۴۴؍تھی۔ تاہم، آزاد کارپوریٹر آشیش پویتراکار نے بی جے پی کی زیرقیادت شہر سدھار اگھاڑی کی حمایت کردی جس کے بعد، یہ تعداد بڑھ کر ۴۵؍ہو گئی۔ دوسری طرف، مخالف گروپ میں، کل ۳۲؍کارپوریٹروں نے ووٹ ڈالے جن میں سے ۲۱؍کانگریس، ۶؍شیوسینا (اُدھو ٹھاکرے) اور ۵؍ ونچت بہوجن اگھاڑی سے تھے۔ چونکہ ایم آئی ایم کے تین کارپوریٹر ووٹنگ میں غیر جانبدار رہے، اسلئے اپوزیشن کا ۳۶؍ کا دعویٰ ۳۲؍ووٹوں تک محدود ہو گیا۔
’’شہر کی ترقی کو ترجیح دیں ‘‘
میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کیلئے یہ خصوصی اجلاس کارپوریشن کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ہال میں ضلع کلکٹر ورشا مینا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ شاردا کھیڈکر اکولہ میونسپل کارپوریشن کی نویں صدر بن گئی ہیں اور اس نتیجے کی وجہ سے بلدیہ میں بی جے پی کا اقتدار برقرار ہے۔ نو منتخب صدر بلدیہ شاردا کھیڈکر نے کہا کہ وہ شہر کی ترقی کو ترجیح دیں گی۔ اس دوران، اپوزیشن نے بی جے پی پر مسلم اراکین میں پھوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے جس سے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔
ایم آئی ایم کارپوریٹروں پر چُوڑیاں پھینکی گئیں
میئر کے طور پر بی جے پی کی شاردا کھیڈکر کا انتخاب عمل میں آنے کے بعد اجلاس میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ ووٹنگ کے عمل میں ایم آئی ایم کے ۳؍ اراکین کے غیر جانبداری رہنے پر کانگریس کےکارپوریٹر ناراض ہوگئے، اور کانگریس و ایم آئی ایم آئی کے کارپورٹروں کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی۔ الزام ہے کہ کانگریس اراکین نے اجلاس کے دوران ایم آئی ایم اراکین کو دھمکیاں دیں،اتنا ہی نہیں ایم آئی ایم اراکین پر چوڑیاں بھی پھینکی گئیں۔
ایک طرف کانگریس اتحاد میں شامل ہونے والے بی جے پی کے باغی اور آزاد کارپوریٹر آشیش پویتراکار کی عین وقت پر بی جے پی کی حمایت کرنے اور دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم کے۳؍ اراکین کی غیر جانبداری سے اکولہ بلدیہ پر کانگریس و اتحادیوں کا دعویٰ ناکام ہوگیا۔ اکثریت نہ ملنے کے باوجود بی جے پی نے ڈپلومیسی اختیار کرکے اپنی اتحادی پارٹیوں کی مدد سے میونسپل کارپوریشن پر اقتدار برقرار رکھا، جس کی ہر طرف چرچا ہورہی ہے۔