Updated: February 05, 2026, 10:07 PM IST
| Jerusalem
خبروں کے مطابق جنوری کے دوران اسرائیلی فورسیز مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں ۲۸؍ مرتبہ زبردستی داخل ہوئیں جبکہ الخلیل کی ابراہیمی مسجد میں ۵۷؍ مواقع پر اذان دینے سے روکا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کے تسلسل کا حصہ ہیں۔
کلیرون انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری ۲۰۲۶ء میں اسرائیلی فورسیز نے الاقصیٰ مسجد کے احاطے میں کم از کم ۲۸؍ مرتبہ دھاوا بولا جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں ۵۷؍ مواقع پر اذان دینے سے روکا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ میں یہ کارروائیاں پورے مہینے کے دوران مختلف دنوں میں کی گئیں، جن میں اسرائیلی فورسیز کا احاطے میں زبردستی داخل ہونا، نمازیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں اور ’’سیکوریٹی اقدامات‘‘ شامل تھے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بعض اوقات عام نمازیوں کو مسجد میں داخلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مسجد الاقصیٰ، جو مشرقی یروشلم میں واقع ہے، پہلے ہی سخت سیکوریٹی انتظامات اور پابندیوں کے تحت ہے۔ جنوری میں ریکارڈ کی گئیں ۲۸؍ کارروائیاں اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جو گزشتہ مہینوں میں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن پوسٹ میں چھٹنی: ششی تھرور کے بیٹے ایشان برطرف، صحافیوں کا ردعمل
الخلیل کی ابراہیمی مسجد
دوسری جانب، الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں صورتحال نسبتاً زیادہ پابندیوں کی حامل رہی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے جنوری کے دوران ۵۷؍ مرتبہ اذان دینے پر پابندی عائد کی۔ یہ پابندیاں مختلف اوقات میں نافذ کی گئیں، جن میں بعض جمعے اور مذہبی مواقع بھی شامل تھے۔ خیال رہے کہ ابراہیمی مسجد ایک ایسا مذہبی مقام ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے اور یہ طویل عرصے سے سخت سیکوریٹی انتظامات کے تحت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اذان پر پابندی کا یہ عمل نیا نہیں، تاہم جنوری میں اس کی تعداد نمایاں رہی۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے امیر تر افراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مذہبی اداروں اور مقامی حکام نے ان اقدامات کو مذہبی سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عبادت گاہوں میں اس نوعیت کی پابندیاں مذہبی معمولات کو متاثر کرتی ہیں اور مقامی سطح پر تناؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے رپورٹ میں دیے گئے مخصوص اعداد و شمار پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اسرائیل ماضی میں ایسے اقدامات کو سیکوریٹی خدشات سے جوڑتا رہا ہے۔ جنوری میں مسجد الاقصیٰ اور ابراہیمی مسجد سے متعلق پیش آنے والے یہ واقعات اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مذہبی مقامات پر سیکوریٹی پابندیاں، داخلے کی نگرانی اور عبادات پر قدغن شامل ہیں۔