Updated: October 22, 2026, 10:03 PM IST
| Al Quds
مسجدِ اقصیٰ کے ۱۴؍ دونم پر پھیلے صحنوں میں موجود ۶۰۰؍ سے ۸۰۰؍ زیتون کے درخت مذہبی و تاریخی ورثے کے ساتھ ضرورت مند فلسطینی خاندانوں کے لیے روزگار اور خوراک کا ذریعہ بھی ہیں۔ اسلامی اوقاف کی نگرانی میں زیتون کی فصل کی کٹائی کا کام القدس زکوٰۃ کمیٹی کے ذریعے غریب خاندانوں اور مزدوروں کو دیا جاتا ہے، جب کہ حاصل ہونے والا تیل القدس اور مغربی کنارے کے سیکڑوں مستحق گھرانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے لاکھوں ذیتون کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ تصویر: ایکس
مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں موجود زیتون کے درخت فلسطینیوں کے لیے محض سرسبزی اور خوب صورتی کا ذریعہ نہیں، بلکہ مذہبی وابستگی، تاریخی شناخت، زمین سے تعلق اور معاشی استقامت کی علامت بھی ہیں۔ ان درختوں سے حاصل ہونے والی فصل ہر سال ضرورت مند خاندانوں کے لیے روزگار اور زیتون کا تیل فراہم کرتی ہے، لیکن اسرائیلی پابندیوں اور نگرانی کے باعث اس سال فصل کی کٹائی اور درختوں کی دیکھ بھال کے عمل کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ القدس اخبار کی رپورٹ کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں موجود سیکڑوں درختوں کی حفاظت اور ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کو مستحق افراد تک پہنچانے کا سلسلہ ان حالات میں بھی جاری رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کا رقبہ تقریباً ۱۴۴؍ دونم ہے، جس میں ۶۰۰؍ سے ۸۰۰؍ زیتون کے درخت موجود ہیں۔ ان میں سے بعض درختوں کی جڑیں ہزاروں برس پرانی بتائی جاتی ہیں۔ یہ درخت مسجد کے قدرتی منظرنامے کا حصہ ہونے کے ساتھ اس مقام کی اسلامی شناخت اور تاریخی ورثے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری القدس میں اسلامی اوقاف کے شعبۂ زراعت کے پاس ہے، جس کے کارکن درختوں کی آب پاشی، زمین کی گوڈی، مٹی کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری کام انجام دیتے ہیں۔ ضرورت کے وقت اضافی کسانوں کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں تاکہ درختوں کی نگہداشت کا عمل جاری رہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۵؍ افراد جاں بحقڑ
ان درختوں کی اہمیت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی پیداوار کو غریب خاندانوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلامی اوقاف کی جانب سے دیے جانے والے داخلی ٹھیکے کے تحت زیتون کی فصل کی کٹائی القدس زکوٰۃ کمیٹی کے ذریعے انجام دی جاتی ہے۔ یہ ایک آزاد فلسطینی اسلامی ادارہ ہے جو القدس اور اس کے مضافات میں کام کرتا ہے۔ کمیٹی فصل اتارنے کے لیے مزدوروں اور ضرورت مند خاندانوں کو کام فراہم کرتی ہے، جس کے عوض انہیں اجرت ملتی ہے۔ اس طرح زیتون کی سالانہ پیداوار صرف ایک زرعی سرگرمی نہیں رہتی، بلکہ ان گھرانوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بنتی ہے جنہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ زیتون کی کٹائی میں القدس کے ان اسکولوں کے طلبہ بھی حصہ لیتے ہیں جو فلسطینی وزارتِ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ ان کی شرکت ایک منظم طریقۂ کار کے تحت ہوتی ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو زیتون کے درختوں کی اہمیت، ان کی تاریخی حیثیت اور فلسطینی معاشرے میں ان کی معنوی قدر سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سرگرمی کے ذریعے طلبہ کو مسجدِ اقصیٰ کے ماحول اور اس کے قدرتی ورثے سے عملی تعلق قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
فصل کی کٹائی کے بعد زیتون کو تیل نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور القدس زکوٰۃ کمیٹی یہ تیل مخصوص فہرستوں اور طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق القدس اور مغربی کنارے کے سیکڑوں مستحق خاندانوں میں تقسیم کرتی ہے۔ یوں مسجدِ اقصیٰ کے درختوں سے حاصل ہونے والی پیداوار ایک ہی وقت میں روزگار، خوراک اور سماجی امداد کے کئی مقاصد پورے کرتی ہے۔ بعض نمازی اور زائرین بھی مسجد کے صحنوں میں موجود درختوں سے چند زیتون توڑتے ہیں اور اسے اس مقدس مقام سے اپنی روحانی وابستگی کا اظہار سمجھتے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق، ان درختوں کی دیکھ بھال اور پیداوار حاصل کرنے کا عمل اسرائیلی پابندیوں سے متاثر ہورہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نئے درخت لگانے اور موجودہ درختوں کی دیکھ بھال کے لیے درکار کھاد اور زرعی ادویات داخل کرنے پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ درختوں کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو بھی نگرانی، دھمکیوں اور گرفتاری کے خدشات کا سامنا رہتا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجازت کے بغیر لگائے گئے نئے پودے اکھاڑ دیے جاتے ہیں، جب کہ کسانوں کی زمین کی گوڈی اور دیکھ بھال کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔
القدس کے محقق فخری ابو دیاب نے موجودہ موسم کو مقدس شہر پر قبضے کے بعد سے سخت ترین موسموں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق، درختوں کی علامتی اہمیت بھی اس کشمکش کا حصہ ہے، کیونکہ زیتون فلسطینیوں کی زمین سے وابستگی اور استقامت کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔ ابو دیاب نے کہا کہ اسرائیلی پولیس مسجدِ اقصیٰ کے مشرقی حصے میں نمازیوں اور کسانوں کی رسائی محدود کررہی ہے، حالاں کہ اسی علاقے میں درختوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال سے اسلامی اوقاف کے انتظامی اختیارات اور مسجد پر عرب و اسلامی سرپرستی کے معاملے پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ درختوں کی حفاظت سے متعلق خدشات مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں تک محدود نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، القدس کے نواحی علاقوں سلوان اور وادی الربابہ میں بھی زمینوں تک شہریوں کی رسائی پر پابندیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ مقامی محققین ان اقدامات کو فلسطینیوں کی معاشی زندگی اور زیتون سے وابستہ قومی شناخت پر دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، زیتون کے باغات سے محرومی کا مطلب صرف درختوں کا نقصان نہیں، بلکہ آمدنی، خاندانی ورثے اور زمین کے ساتھ نسل در نسل قائم تعلق کا کمزور ہونا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل آبادکاروں کو فلسطینیوں کی ’’نسلی تطہیر‘‘ کے لیے استعمال کر رہا: ایمنسٹی
القدس کے اپوزیشن کے سربراہ ناصر الہدمی نے زیتون کے درخت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینیوں کی تاریخ، عربی شناخت اور اسلام سے وابستگی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں مسجدِ اقصیٰ کے اندر موجود مختلف نشانیوں اور مقامات کی مرمت اور نگہداشت کرنے والوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ الہدمی کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ کے زیتون کے تیل کی روحانی اہمیت بھی ہے، جسے وہ مسجد کے تقدس اور اسلامی روایات سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ فلسطین میں زیتون کی اہمیت مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ درخت ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی، مقامی زراعت اور ثقافتی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کی ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، اس سال زیتون کی فصل کا موسم آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، کسانوں کی زمینوں تک رسائی پر پابندیوں اور سلامتی کے خطرات کے درمیان شروع ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم ستمبر سے ۱۲؍ اکتوبر کے دوران زیتون کی فصل سے متعلق ۱۹۹؍ آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں ۱۲۴؍ فلسطینی زخمی ہوئے اور ۲۵۰۰؍ سے زیادہ درختوں اور پودوں کو نقصان پہنچا۔
اسلامی اوقاف اور القدس زکوٰۃ کمیٹی کے ذریعے مسجدِ اقصیٰ کے زیتون کی فصل سے مستحق خاندانوں کی مدد کا سلسلہ اس بات کی مثال ہے کہ تاریخی ورثہ کس طرح روزمرہ معاشی زندگی اور سماجی بہبود سے جڑا ہوسکتا ہے۔ ان درختوں کی حفاظت کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کئی خاندانوں کے لیے عملی مدد فراہم کرتی ہے۔ پابندیوں اور رسائی کی مشکلات کے باوجود فصل کی کٹائی، تیل کی تیاری اور اس کی تقسیم جاری رکھنے کی کوششیں مسجدِ اقصیٰ کے قدرتی ورثے اور فلسطینی معاشرے کے درمیان قائم گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔