• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل آبادکاروں کو فلسطینیوں کی ’’نسلی تطہیر‘‘ کے لیے استعمال کر رہا: ایمنسٹی

Updated: October 21, 2026, 10:33 AM IST | Jerusalem

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیل یہودی آباد کاروں کے تشدد کو مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاہم حقوق گروپ نے دنیا کے ممالک سے اسرائیلی حکام پر پابندیاں لگانے، غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیل یہودی آباد کاروں کے تشدد کو مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاہم حقوق گروپ نے دنیا کے ممالک سے اسرائیلی حکام پر پابندیاں لگانے، غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کو خبردار کیا کہ ریاست کی پشت پناہی سے غیر قانونی یہودی آباد کاروں کے تشدد میں بڑے پیمانے پر اضافہ کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی ’’نسلی تطہیر‘‘ کرنا ہے، اور کہا کہ یہ حملے الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ’’اسرائیلی ریاست کی مرکزی پالیسی‘‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا

لندن میں قائم حقوق گروپ نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث اسرائیلی حکام پر پابندیاں عائد کریں، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی لگائیں اور اسرائیل کو ہتھیاروں اور سیکورٹی آلات کی فراہمی روک دیں۔ واضح رہے کہ یہ بیان حالیہ دنوں میں مغربی کنارے میں فلسطینی کسانوں کے علاوہ  یورپی سفارت کاروں اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ کے خلاف غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں آیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ہبہ مرایف نے کہا، ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل طویل عرصے سے فلسطینیوں کے خلاف ریاست کی سرپرستی میں آبادکاروں کے تشدد میں تیزی سے اضافے پرانتباہ دے رہی ہے، جس نے دہشت پھیلانے والے ذرائع سے مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی کوشش کی ہے۔‘‘علاوہ ازیں انہوں نے  کہا، ’’تشدد میں یہ اضافہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فلسطینیوں پر جاری جبر کو ممکن بنانے والے نظام کے خلاف بامعنی کارروائی کرنے میں مسلسل ناکامی کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ مرایف نے کہا، حملے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، بلکہ اسرائیلی ریاست کی مرکزی پالیسی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: جے ڈی وینس کا اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت سے انکار

تاہم انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیوں اور جرائم میں ملوث ہونے سے بچنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ایمنسٹی نے ہر قسم کی تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو غیر قانونی قبضے، نسل پرستی اور نسلی تطہیر کی جاری مہم کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔مرایف نے سینئر اسرائیلی حکام اور سیاسی میدان میں انتخابی امیدواروں کی جانب سے آبادکاروں کے حملوں کو چند افراد کا کام قرار دینے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔انہوں نے ریاست کی سرپرستی میں بربریت کے پیش نظر اسے سچائی کی سنگین مسخ تصویر کشی  قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا،’’ ان حملوں کے خلاف ان ریاستوں کو سخت ردعمل کا اظہار  کرنا چاہیے جو فلسطینی علاقے کے اسرائیل کے الحاق کی مخالفت کا دعویٰ کرتی ہیں۔‘‘ذہن نشین رہے کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءسے مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم پر قبضہ کر رکھا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK