Inquilab Logo Happiest Places to Work

۴۰؍ دن بعد مسجد اقصیٰ فلسطینیوں کیلئے کھول دی گئی، فجر کی نماز میں ہزاروں مصلیان

Updated: April 09, 2026, 8:04 PM IST | Jerusalem

اسرائیل کی جانب سے ۴۰؍ روزہ پابندی کے بعد مسجد اقصیٰ دوبارہ کھول دی گئی، جہاں جمعرات کی صبح ہزاروں فلسطینی مصلیان نے نماز فجر ادا کی۔ وفا کے مطابق سیکوریٹی پابندیوں کے باوجود کم از کم ۳؍ ہزار افراد مسجد پہنچے، جبکہ متعدد افراد کو داخلے سے روکا گیا۔ اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، اور شناختی جانچ کے سخت اقدامات کیے گئے۔ فلسطینی حکام نے ان پابندیوں اور کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

A view of the Fajr prayer at Al-Aqsa Mosque. Photo: X
مسجد اقصیٰ میں فجر کی نماز کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی جانب سے ۴۰؍ دن تک بند رکھنے کے بعد مسجد اقصیٰ کو جمعرات کو نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، جس کے بعد ہزاروں فلسطینی شہری نماز فجر ادا کرنے کے لیے پہنچے۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق، سخت سیکوریٹی اقدامات کے باوجود کم از کم ۳؍ ہزار افراد نے مسجد اقصیٰ میں فجر کی نماز ادا کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ۲۸؍ فروری کو سیکوریٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کے احاطے کو بند کر دیا تھا۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق یروشلم کے قدیم شہر اور مسجد اقصیٰ کے اطراف میں سیکڑوں پولیس اہلکار اور سیکوریٹی فورسیز تعینات کی گئی تھیں، جنہوں نے داخلی راستوں پر سخت نگرانی برقرار رکھی۔

وفا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سیکوریٹی اہلکار نمازیوں کے شناختی کارڈ چیک کر رہے تھے اور بعض افراد کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ’’کئی مقامات پر نمازیوں کو دروازوں پر روکا گیا، بعض کے ساتھ سختی کی گئی اور انہیں مسجد کے صحن میں داخل ہونے سے منع کیا گیا۔‘‘ یروشلم گورنریٹ کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے باقاعدگی سے نماز ادا کرنے والے فلسطینی شہری، منتہیٰ عمارہ، کو مسجد میں داخلے سے روک دیا، جبکہ ایک اور شخص کو مسجد کے احاطے سے حراست میں لے لیا گیا۔
مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر شیخ عمر الکسوانی نے اس موقع پر کہا کہ ’’یہ مقدس مقام اپنے زائرین کا منتظر رہتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ جگہ ہر وقت عبادت گزاروں اور دعاؤں سے آباد رہے۔‘‘ ابراہیم ابو رمیلح نے پابندی کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں چالیس دن تک مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس سے ہمیں شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ مقام ہے جو ہمارے ایمان اور تاریخ کا حصہ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: لبنان : اسرائیل کی درندگی ،۲۵۴؍افرادشہید، ۱۰۶۵؍افرادزخمی

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ تک رسائی پر پابندیاں ماضی میں بھی عائد کی جاتی رہی ہیں، جنہیں فلسطینی حلقے اکثر ایک تعزیری اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان کے دوران، عمر اور دیگر شرائط کے تحت محدود تعداد میں افراد کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد بھی سیکوریٹی پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں کی گئیں، اور داخلی راستوں پر نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ صورتحال میں مسجد اقصیٰ تک رسائی اور عبادت کے حقوق ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر بھی اس معاملے پر تشویش برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK