• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: طلبہ یونین انتخابات کا مطالبہ، بھوک ہڑتال کا ۱۷؍ واں دن

Updated: October 07, 2026, 10:03 PM IST | Aligarh

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے کو لےکر بھوک ہڑتال جاری ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات مکمل نہیں کئے جاتے تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ یہ احتجاج ایک تحریک بن کر ابھر رہا ہے جسے یونیورسٹی کے باہر بھی دیگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے یکجہتی مل رہی ہے۔ تاہم، اب طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاج میں شریک ہونا شروع کر دیا ہے۔

A photo of the protest by Aligarh Muslim University students. Photo: X
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ کے احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کیلئے جاری احتجاج ۱۷؍ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ طلبہ کی نمائندگی کے مطالبے سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب پورے کیمپس میں پھیل چکی ہے، جہاں تقریباً تمام اہم شعبہ جات کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے ڈک پوائنٹ پر جاری احتجاج میں شرکت کر ر ہےہیں ۔ اس تحریک کے مرکز میں اب تین اہم مطالبات ہیں، اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین (اے ایم یو ایس یو ) کے انتخابات کا انعقاد، پروکٹر کا استعفیٰ، اور طلبہ کی غیر قانونی معطلیوں کی منسوخی ۔ 

یہ بھی پڑھئے: پونے: مطالبات منظور نہ کرنے پر رکن اسمبلی روہت پوار کا پونے بند کا انتباہ

مظاہرین کا پہلا اور بنیادی مطالبہ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور انتخابی عمل کا فوری آغاز ہے۔ یونیورسٹی میں ۲۰۱۸-۱۹؍ کے بعد سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات منعقد نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ اب چیف الیکشن آفیسر کے مقرر کئے جانے اور الیکشن کی حتمی تاریخ کے اعلان کی مانگ کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلباء لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور طلباء یونین انتخابات سے متعلق ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ان کے مفادات کی نمائندگی کیلئے ایک منتخب باڈی کا ہونا لازمی ہے۔ طلبہ کیلئے یہ صرف الیکشن کروانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ان کا موقف ہے کہ طویل عرصے سے منتخب یونین کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کی باضابطہ نمائندگی ختم ہو چکی ہے اور وہ ایک ایسے منتخب پلیٹ فارم سے محروم ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے تعلیمی، انتظامی اور فلاحی مسائل اجتماعی طور پر اٹھا سکیں۔
دوسرا بڑا مطالبہ اے ایم یو کے پروکٹر کا استعفیٰ ہے۔ اس مطالبے کی حمایت کرنے والے طلبہ نے پروکٹوریل انتظامیہ کے رویے اور ڈسپلنری اختیارات کے بےجا استعمال کے کئی واقعات کا حوالہ دیا ہے۔ طالبات نے خاص طور پر عبداللہ ہال کی طالبات سے جڑے ایک سابقہ واقعے کا معاملہ اٹھایا ہے، جس میں ان کے بقول پروکٹوریل انتظامیہ نے طالبات کے ساتھ نا مناسب رویہ اختیار کیا۔ بعض طلبہ نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پروکٹر آفس فون کالز، سمن اور سرکاری مراسلات کے ذریعے دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرتا ہے، جس میں طالبات سے جڑے معاملے بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات احتجاجی طلبہ کی طرف سے لگائے گئے ہیں اور فی الحال ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ میں گیانیش کمار کے خلاف سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے کارکنان کا زبردست احتجاج

اس جاری احتجاج کے مرکز میں یاسر فہد ہیں، جن کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ۱۷؍ ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا طویل فاقہ اس احتجاجی مظاہرے کی توجہ کا اہم مرکز بن چکا ہے اور طلبہ ان کی گرتی ہوئی صحت پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی وجہ سے یہ احتجاج شروع ہوا۔ ۶؍ اور ۷؍ اکتوبر کی درمیانی رات ڈک پوائنٹ پر اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب ایک میڈیکل ٹیم اور پروکٹوریل انتظامیہ کے ارکان یاسر فہد کی صحت کی جانچ کیلئے وہاں پہنچے۔ مظاہرین کے مطابق، یاسر کو علاج کیلئےاسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ یاسر کا کہنا تھا کہ انہیں طبی امداد احتجاجی مقام پر ہی فراہم کی جائے۔ اس پر طلباء نے یاسر کے گرد انسانی زنجیر (ہیومن چین ) بنا لی اور احتجاج کو متاثر کئے بغیر ان کی صحت پر نظر رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موقع پر ہی ڈٹے رہے۔ اس واقعہ نے مظاہرین میں نیا جوش بھر دیا اور طلبہ رات بھر ڈک پوائنٹ پر رک کر نعرے بازی کرتے رہے۔
بعد ازاں اس احتجاج میں طالبات کی بھی نمایاں شمولیت دیکھنے کومل رہی ہے۔ عبداللہ ہال، اندرا گاندھی ہال اور بیگم سلطان جہاں ہال سمیت دیگر ہاسٹلوں کی طالبات نے احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نعرے بازی کی۔ اس کے علاوہ، یہ احتجاج اب صرف ڈک پوائنٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ اردو اور لاء کے شعبہ جات سمیت تقریباً تمام اہم شعبوں کے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے احتجاج میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس نے اس احتجاج کو پورے کیمپس کی ایک وسیع تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں۱۰؍ اکتوبر کے احتجاج کے خلاف مہاراشٹر میں سی جےپی کارکنوں کو نوٹس

مزید برآں اس تحریک کو اے ایم یو سے باہر بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کی  جوائنٹ سکریٹری دانش علی نے ڈک پوائنٹ پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جاری تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ جے این یو ایس یو کے ایک وفد نے اے ایم یو کے وائس چانسلر سے ملنے کی کوشش بھی کی، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری طرف، یہ تنازع اب قانونی اور انتظامی مرحلے میں بھی داخل ہو چکا ہے۔۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایڈووکیٹ اور اے ایم یو کے سابق طالب علم سید کیف حسن نے شام ۰۵:۴؍بجے اے ایم یو کے وائس چانسلر، رجسٹرار اور ڈی ایس ڈبلیو (ڈين اسٹوڈنٹس ویلفیئر) کو ایک قانونی ٹس - کم- ریپریز نٹیشن بھیجا۔ اس نوٹس میں وائس چانسلر آفس سے منسوب مبینہ توہین آمیز بیانات، لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کے نافذ العمل ہونے اور یاسر فہد کی بھوک ہڑتال سے جڑے مسائل کے فوری حل کے مطالبات اٹھائے گئے۔
دریں اثناء۱۷؍ دنوں کے بعد یہ احتجاج ایک بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے جہاں ہزاروں طلباء ڈک پوائنٹ پر موجود ہیں، کلاسوں کا بائیکاٹ جاری ہے، طالبات ہاسٹلوں سے متحرک ہیں اور بیرونِ کیمپس تنظیمیں یکجہتی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اے ایم یو انتظامیہ ان مطالبات پر مذاکرات شروع کرتی ہے یا کیمپس کی یہ تحریک مزید شدت اختیار کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK