• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

تمام ضلع کلکٹر اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی اسپتال میں دوا کی کمی کی شکایت نہ رہے

Updated: October 11, 2023, 9:47 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ناندیڑ سانحہ کے بعد ریاستی حکومت بیدار، وزیراعلیٰ کی صدارت میں جائزہ میٹنگ ، تمام اضلاع میں سپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کی ہدایت ، کلکٹروں کو دوائیں خریدنے کا اختیار۔

Eknath Shinde and others during the meeting. Photo. Inquilab
ایکناتھ شندے اور دیگر میٹنگ کے دوران۔ تصویر: انقلاب

تھانے، ناندیڑ اور اورنگ آباد میں سرکاری اسپتالوں میں بڑی تعداد میں مریضوں کی موت کے بعد حکومت پر ہونے والی شدید تنقیدوں کے بعد وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ریاست کے طبی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے پیر کو ریاست کے اسپتالوں کی جائزہ میٹنگ لی جس میں سبھی ضلع کلکٹروں کو سرکاری اسپتالوں کیلئے ادویات اور طبی آلات خریدنے کا اختیار دیا گیا ، ۳۴؍ اضلاع میں سپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے اور دیہی علاقوں میں طبی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے جنگی پیمانے پر اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔وزیر اعلیٰ  نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹریوںکی کمیٹی ۱۵؍ دن کے اندر اور ۲۰۳۵ء تک صحت سے آراستہ نئے ضلعی اسپتالوں کے قیام کا منصوبہ تیار کرے۔
شندے نے صحت کے انتظامات  کا جائزہ لینے کیلئے پیر ۹؍ اکتوبر کو منترالیہ میں ایک جائزہ میٹنگ کی۔ میٹنگ کے دوران نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور اجیت پوار نے بھی اپنی طرف سے  تجاویز  پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کیلئے ایک جامع صحت پالیسی (ویژن) تیار کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مشورہ دیا۔ 
ضلع کلکٹر ادویات اور اشیا فوراً خریدیں
دفتر وزیر اعلیٰ  کے مطابق ضلع  کلکٹروں کو سرکاری اسپتالوں میں دواؤں کی قلت ہونے پر ادویات  اور طبی آلات خریدنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ لہٰذا وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ کلکٹروقت ضائع کئے   بغیر اپنے اضلاع میں ٹیرف کے مطابق ادویات اور طبی آلات کی فوری خریداری کریں۔ انہوں نے  کہا کہ جان بچانے والی ضروری ادویات کی خریداری الگ سے کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بات کو ہر حال میں یقینی بنایا جائےکہ کسی بھی ضلع  اسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کی شکایت تو نہیںآئی  ہے۔
صحت کے فنڈ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں
میٹنگ میں اس بات  پر بھی غور کیا گیا کہ ریاست میں صحت عامہ پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ ضروری ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی زیادہ سرمایہ کاری ہونی چاہئے۔۱۵؍ویں مالیاتی کمیشن کے جاری کردہ فنڈ کو اگلے مارچ تک خرچ کرنا ہوگا۔  ایکناتھ شندے نے ہدایت دی کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے پر متوقع اخراجات کو بھی پورا کیا جائے۔ ایمبولینس، قومی صحت مشن، صحت کے اداروں کی تعمیر، طبی آلات وغیرہ کے لئے ۸؍ ہزار ۳۳۱؍ کروڑ روپے کے فنڈ ضمنی مطالبہ کے ساتھ منظور کئےگئے ہیں اورایک ہزار ۲۶۳؍ کروڑ روپے کے اضافی فنڈ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہڈکو نے۱۴۱؍ صحت اداروں کی تعمیر کیلئے۳؍ ہزار ۹۴۸؍ کروڑ روپے منظور کئے ہیں اور اسے بھی وقت پر خرچ کیا جانا چاہئے۔  نئے طبی اداروں کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے۵؍ ہزار ۱۷۷؍ کروڑ کا قرض مرکزی حکومت ضرورت کے مطابق فنڈ فراہم کرنے کیلئےتیار ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ محکمہ صحت عامہ اور طبی تعلیم کو  ملنے والے فنڈ ۳۱؍مارچ تک زیادہ سے زیادہ خرچ کئے جائیں۔میٹنگ میں وزیر صحت تانا جی ساونت، طبی تعلیم کے وزیر حسن مشرف، ڈاکٹر  دیپک ساونت، محکمہ صحت عامہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ملند مہیسکر اور دیگر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK