• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۹۸۲ء قتل کیس میں تقریباً ۱۰۰؍ سالہ ملزم کو بری کیا

Updated: February 05, 2026, 8:06 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۹۸۲ء کے ایک قتل مقدمے میں تقریباً ۱۰۰؍ سالہ ملزم کو بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے اپیل کے فیصلے میں غیر معمولی ۴۰؍ سالہ تاخیر اور ملزم کو درپیش طویل ذہنی دباؤ کو بھی مدنظر رکھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۹۸۲ء کے ایک قتل مقدمے میں تقریباً سو سالہ شخص کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ اپیل کے فیصلے میں چار دہائیوں کی غیر معمولی تاخیر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ملزم کو جس ذہنی اضطراب، غیر یقینی صورتحال اور سماجی نتائج کا سامنا کرنا پڑا، وہ انصاف فراہم کرتے وقت ایک اہم عنصر ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ طویل عدالتی عمل کے انسانی اثرات کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ معاملہ ایک زرعی زمین کے تنازع سے جڑا تھا، جس میں تین افراد پر قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ٹرائل کے بعد ایک سیشن عدالت نے ۱۹۸۴ء میں دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل کے دوران ایک شریکِ ملزم کی موت ہو گئی، جس کے بعد دھامی رام واحد زندہ اپیل کنندہ رہ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا: دھماکہ خیزمادہ ملنے کے کیس سے ۳؍ ملزمین ۸؍ سال بعد بری

دھامی رام کو ۱۹۸۴ء میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا اور وہ گزشتہ چار دہائیوں سے ضمانت پر تھے۔ اپیل کا حتمی فیصلہ اب آ کر سامنے آیا ہے، جس میں ہائی کورٹ نے انہیں مکمل طور پر بری کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ بریت صرف تاخیر کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقدمے کے میرٹ پر کی گئی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ شواہد میں تضادات، گواہیوں کی کمزوری اور استغاثہ کی ناکامی کے باعث جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں دھامی رام کے ضمانتی مچلکے منسوخ کر دیے اور کہا کہ وہ اب اس مقدمے میں کسی قانونی پابندی کے پابند نہیں رہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ فوجداری انصاف کے نظام میں کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک قانونی غیر یقینی میں رکھنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے مقدمات میں ایک اہم نظیر سمجھا جا رہا ہے جہاں اپیلوں میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے اور ملزمان کو طویل عرصے تک عدالتی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے انصاف کے انسانی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: متھرا: نماز کے الزام میں معطل کئے گئے ٹیچر کو گاؤں کی حمایت

عدالت نے یہ بھی کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ منصفانہ، بروقت اور شفاف انصاف فراہم کرنا ہے۔ اس مقدمے میں چار دہائیوں تک فیصلہ نہ آنا نظام کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست ملزم کی زندگی پر پڑتے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدالتی نظام میں زیرِ التوا مقدمات اور تاخیر کے مسئلے پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، اور عدالتوں سے تیز اور مؤثر انصاف کی توقع کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK