لکش دیپ کے اگاتی میں پیرکے دن زیر تعمیر عمارتوں پر انتظامیہ نے چلایا بلڈوزر۔ طے شدہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی کارروائی کر دی گئی ، عدالت سے رجوع کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 7:08 PM IST | Lakshadweep
لکش دیپ کے اگاتی میں پیرکے دن زیر تعمیر عمارتوں پر انتظامیہ نے چلایا بلڈوزر۔ طے شدہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی کارروائی کر دی گئی ، عدالت سے رجوع کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
لکش دیپ انتظامیہ کی جانب سے نوٹس کا جواب دینے کی طے شدہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اگاتی جزیرے میں زیرِ تعمیر عمارتوں کو گرا دیا گیا۔ جس کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا ہے۔ اس اقدام پر احتجاج کے ساتھ انتظامیہ پر جزائر میں ’’بلڈوزر راج‘‘ لانے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جبکہ کئی مقامی سیاسی لیڈروں کو پولیس نے حراست میں بھی لیا۔
واضح رہے کہ پیر کے روز اگاتی کے جنوبی حصے میں ریونیو حکام نے جے سی بی مشینوں کی مدد سے بنیادوں سمیت تقریباً چار زیرِ تعمیر عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ انتظامیہ نے اس کارروائی کی وجہ بتاتے ہوئےکہا کہ عمارتوں کی تعمیر کیلئے زمین کو استعمال میں بدلنے (Land-conversion) کی ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق، اس سلسلے میں ۱۰؍ ستمبر کو کام روکنے کا نوٹس تیار کیا گیا تھا جو عمارت کے مالکان کو جمعہ (۱۲؍ ستمبر) کی شام کو ملا۔ متاثرہ مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا جواب داخل کرنے اور قانونی راستہ اختیار کرنے کیلئے ۷؍ دن کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی بلڈوزر چلا دئیے گئے۔ اس یکطرفہ کارروائی نے مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں کو سڑکوں پر اترنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ انتظامیہ نے متاثرین کو جواب دینے یا عدالت سے رجوع کرنےتک کا موقع ہی نہیں دیا۔احتجاج کی خبر ملتے ہی موقع پر پہنچنے والے این سی پی کے جنرل سکریٹری او پی جبار اور کانگریس رہنما ایم آئی دلشاد کو پولیس نے حراست میں لے لیا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: وردھا: احتجاج میں شامل ہونے پر لوگوں کے گھروں پر رات کو نوٹس چسپاں
بعد ازاں او پی جبار نے ایک ویڈیو بیان میں الزام لگایا کہ ڈپٹی کلیکٹر اور دیگر حکام قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۱۰؍ ستمبر کا نوٹس جان بوجھ کر ۱۲؍ ستمبر کی شام کو دیا گیا تاکہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کی وجہ سے لوگوں کو عدالت سے رجوع کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوٹس میں ۷؍ دن کا وقت دینے کے باوجود حکام پیر کے دن ہی بلڈوزرکارروائی کیلئے پہنچ گئے اور مخالفت کرنے والے مظاہرین پر تشدد بھی کیا گیا۔این سی پی نے اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’’عوام کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش‘‘ قرار دیا اور کہا کہ کسی کو بھی لکشدویپ کے لوگوں کو پریشان کر کے حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کا مطالبہ گی۔
مزید برآں لکش دیپ پولیس ہیڈکوارٹر میں ایس پی سے ملاقات کے بعد این سی پی لیڈروںنے گرفتاریوں اور انہدامی کارروائی کے خلاف مسلسل احتجاج کابھی اعلان کیاہے۔ پارٹی کے آفیشل ہینڈل سے جاری ویڈیو میں ریاستی سکریٹری ساجدہ بیگم نے کہا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو عوام کے بنیادی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، "اگر انتظامیہ آج ان کی عمارتیں گرا سکتاہے، تو کل ہماری عمارتیں بھی گرا دے گا۔ جب تک انصاف نہیں ملتا ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔"نیشنل یوتھ کانگریس لکشدویپ کے رہنما جنید وی آئی نے ایڈمنسٹریٹرپرلکش دیپ میں ’’بلڈوزر راج‘‘ لانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے قانون کے مطابق تعمیر شدہ عمارتوں کو گرانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ورزی قرار دیاہے۔ جنید نے اگاتی پولیس اسٹیشن کےایس ایچ او امیر بن محمد پر احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوئیڈا میں کسانوں کے احتجاج کا دوسرا دن، مطالبات منوانے تک ڈٹے رہنے کااعلان
واضح رہے کہ لکش دیپ ، ہندوستان کا سب سے چھوٹا مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) ہے، جو بحیرہ عرب میں کیرالہ کے ساحل کے قریب ۳۶؍ کورل جزائر پر مشتمل ہے، جن میں سے صرف ۱۰؍ جزائر پر آبادی ہے اور اس کا دارالحکومت کاواراتی ہے۔ یہاں کی اکثریت مسلم آبادی پر مشتمل ہے اور مقامی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر ماہی گیری، ناریل کی کاشت کاری اور محدود سیاحت پر ہے۔ یہ علاقہ اپنی مخصوص ثقافتی روایتوں اور حساس ماحولیاتی نظام کیلئے جانا جاتا ہے۔لکش دیپ میں تنازعات کا آغاز ۲۰۲۱ء میں اس وقت ہوا جب بی جے پی کے سیاستداں اور اس یونین ٹیریٹری کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڈا پٹیل نے انتظامی قوانین اور پالیسیوں کا ایک نیا سلسلہ متعارف کرایا۔جس کولوگوں نے شدید تنقید نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مقامی ثقافت کو نظر انداز کرنے والی پالیسیاں نافذ کر ر ہےہیں، مقامی خودمختاری کو کمزور کر ر ہےہیں اور جزیرے کے لوگوں کے مفادات کے بجائے سیاحت پر مبنی ترقی کو ترجیح دے ر ہےہیں۔اس سے پہلے ۲۰۲۵ء کے آغاز میں بھی، لکش دیپ انتظامیہ نے اگاتی میں تقریباً ۱۳؍ عمارتوں کو گرایا تھا، جن میں پنچایت دفتر، سرکاری دفاتر، گودام، پوسٹ آفس، پورٹ آفس اور ایک مسافر لاؤنج شامل تھے، تاکہ وہاں سٹی سینٹر کمپلیکس اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے بنائے جا سکیں۔