Updated: September 04, 2026, 6:30 PM IST
| New Delhi
دہلی پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ جنتر منتر پر CJP احتجاج کے دوران نشو آزاد کے والد پر مبینہ حملے کے معاملے میں ملزم سواتنترا بھردواج کو اترپردیش میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھردواج کے بلندشہر سے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ وہ اس وقت تنازع میں آیا تھا جب ایک پوڈکاسٹ میں اس نے احتجاج کے دوران ایک شخص کے سر پر کڑے سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم بعد میں اس نے اپنے اقدام کو ’اپنے دفاع‘ میں کیا گیا عمل قرار دیا۔
ملزم سوتنترا بھردواج۔ تصویر ایکس
دہلی پولیس نے جمعہ کو یہ اطلاع دی ہے کہ سواتنترا بھاردواج، جس پر CJP احتجاج میں شریک نشو آزاد کے والد پر حملہ کرنے کا الزام ہے، کو اترپردیش میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ سوتنترا بھردواج کو اترپردیش کے بلندشہر سے حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی دہلی پولیس کی جانب سے CJP مظاہرین کو یقین دہانی کرانے کے چند گھنٹے بعد ہوئی کہ دہلی کے جنتر منتر پر ۲۰؍ جولائی کو ہونے والے احتجاج کے دوران طالب علم کارکن نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر مبینہ حملے کے الزام میں بھردواج کو ۷۲؍ گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائے۔ خود کو ہندوتوا کا حامی قرار دینے والے بھردواج نے اس سے قبل CJP کے جنتر منتر احتجاج کے دوران ایک مظاہرہ کرنے والے کے والد کی کھوپڑی پھوڑنے کا مبینہ طور پر فخریہ دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس سے قبل سواتنترا بھردواج کے بلندشہر سے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بھردواج اس وقت خبروں میں آیا جب ایک پوڈکاسٹ میں اس نے احتجاج کے دوران ایک شخص کے سر پر کڑے سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کی کتاب ’Belonging‘ اب ہارپرکولنز شائع کرے گا، ۱۰؍ نومبر کو ریلیز
پوڈکاسٹ میں کیا دعویٰ کیا تھا؟
سواتنترا بھردواج نے ایک پوڈکاسٹ کے دوران جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک مظاہرین کے والد کے سر پر کڑے سے حملہ کیا تھا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسے سیاسی شخصیات اور پولیس کی حمایت حاصل ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا اور بھردواج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شروع ہوگیا۔ بعد میں اس نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ نہیں بلکہ اپنے دفاع میں اٹھایا گیا قدم تھا۔ بھردواج نے کہا کہ اگر وہ دفاع میں کارروائی نہ کرتا تو ہجوم اسے قتل بھی کرسکتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ۱۰؍ سے ۱۵؍ افراد کے درمیان گھرا ہوا تھا اور اسی دوران جھڑپ میں ایک شخص کے سر پر چوٹ لگی۔
دہلی پولیس کا مؤقف
دہلی پولیس نے معاملے پر ایک ’فیکٹ چیک‘ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۲۳؍ جون ۲۰۲۶ء کو جنتر منتر پر CJP کے احتجاج کے دوران غازی آباد کے رہائشی سنجے کمار کو جھگڑے کے دوران ایک شخص کے ہاتھ میں پہنے ہوئے کڑے سے سر پر چوٹ لگی تھی۔ پولیس کے مطابق سنجے کمار کو رام منوہر لوہیا اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی چوٹوں کو معمولی نوعیت کا قرار دیا۔ پولیس نے واضح کیا تھا کہ چوٹ کسی ہتھیار سے نہیں بلکہ کڑے سے لگی تھی۔ پولیس نے سنجے کمار کے بیان پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران سورج کمار اور سواتنترا بھردواج کو قانون کے مطابق نوٹس جاری کرکے پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ معاملے میں قانونی کارروائی کی جاچکی ہے اور مجاز عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال حکومت آر ایس ایس کے ماتحت ایک ہزاراسکول کھولنا چاہتی ہے: وزیراعلیٰ
سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب بھردواج نے پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ اسے مختلف سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم دہلی پولیس نے کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ یا بیرونی مداخلت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔ بھردواج نے بعد میں اپنے پہلے بیان کو ’طنزیہ‘ قرار دینے کی کوشش بھی کی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر اس کے پوڈکاسٹ کے کلپس کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔
متاثرہ خاندان نے کیا کہا؟
واقعے میں زخمی ہونے والے سنجے کمار کی بیٹی نشو آزاد نے سوشل میڈیا پر اپنے اور اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں خوف تو ہے، لیکن وہ ناانصافی اور ذات پات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے دہلی پولیس پر مناسب کارروائی نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی
معاملے میں تازہ پیش رفت
اب سواتنترا بھردواج کے بلندشہر سے مبینہ طور پر فرار ہونے کے بعد یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اسے اترپردیش سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ اس خلاف کیا مقدمات چلائے جاتے ہیں؟