Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس کے شواہد نہیں ہیں کہ حجاب مسلمانوں کیلئے لازمی ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

Updated: August 25, 2026, 3:00 PM IST | New Delhi

الہ آباد ہائی کورٹ نے پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی مسلم طالبہ کی وہ درخواست مسترد کردی جس میں اسے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ طالبہ حجاب کو اسلام کا لازمی مذہبی عمل ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ قانونی اور مذہبی مواد پیش نہیں کرسکی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یکساں، غیر امتیازی اور نیک نیتی پر مبنی یونیفارم پالیسی نافذ کرنا اسکول کا اختیار ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ نے گیارہویں جماعت کی ایک مسلم طالبہ کی حجاب کے ساتھ اسکول یونیفارم پہننے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کردی۔ طالبہ کا تعلق پریاگ راج کے ٹیگور پبلک اسکول سے ہے۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ درخواست گزار عدالت کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی حقائق، قانونی بنیاد یا مستند مذہبی مواد پیش نہیں کرسکی کہ حجاب پہننا اسلام کا ایسا لازمی مذہبی عمل ہے جس کے بغیر اس کے مذہبی عقیدے کو نقصان پہنچتا ہو۔ طالبہ سکینہ رضوی نے عدالت سے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے حجاب پہنتی رہی ہے اور چھٹی سے ۱۰؍ ویں تک اسی اسکول میں حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرتی رہی۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ حجاب پر پابندی اس کے آئینی حقوق، بالخصوص آئین کی دفعہ ۱۴؍ اور دفعہ ۱۹ (۱) (اے)، کو متاثر کرتی ہے اور مذہبی آزادی کے حق کے تحت اسے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تبدیل شدہ، تیز اور تیکھی کانگریس

عدالت نے تاہم واضح کیا کہ صرف یہ دعویٰ کردینا کہ کوئی عمل مذہبی روایت کا حصہ ہے، آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے تحت تحفظ حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ بنچ نے کہا کہ ’’محض دعویٰ، ضروری حقائق اور قانونی بنیاد کے بغیر، دفعہ ۲۵؍ کے تحت قابل قبول نہیں ہوسکتا۔‘‘ عدالت کے مطابق درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا تھا کہ سر ڈھانپنا مسلمان خواتین کے لیے ایسا لازمی مذہبی عمل ہے جسے ترک کرنے سے ان کا مذہبی تشخص متاثر ہوگا۔ ہائی کورٹ نے اسکول کی یونیفارم پالیسی کو بھی برقرار رکھا۔ عدالت کے مطابق اگر یونیفارم پالیسی یکساں، غیر امتیازی اور نیک نیتی سے نافذ کی جارہی ہو تو تعلیمی ادارہ اسے برقرار رکھ سکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ مقررہ یونیفارم طلبہ میں نظم و ضبط، مساوات اور ادارے کی شناخت قائم کرنے میں مدد دیتی ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ پر یکساں طور پر لاگو ہونے کی وجہ سے مذہب سے غیر جانب دار ماحول پیدا کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پہلگام حملے، آپریشن سیندور کے وقت سے پھنسیں۱۵۰؍ پاکستانی دلہنیں ہندوستان پہنچیں

طالبہ کی یہ دلیل بھی عدالت نے قبول نہیں کی کہ اسکول نے پہلے اسے حجاب پہننے کی اجازت دی تھی، اس لیے اب اسے روکنا درست نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ماضی میں اسکول کی جانب سے اعتراض نہ کیے جانے سے مستقبل میں یونیفارم پالیسی نافذ کرنے کے اس کے اختیار پر کوئی مستقل پابندی عائد نہیں ہوتی۔ فیصلے میں کرناٹک، کیرالا اور بامبے ہائی کورٹس کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ خاص طور پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ۲۰۲۲ء کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے اسے اس معاملے میں ’’انتہائی اہم ترغیبی نظیر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اسے مختلف نتیجے پر پہنچنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ 
تاہم عدالت نے سپریم کورٹ کی موجودہ قانونی پوزیشن کی اہمیت بھی تسلیم کی۔ کرناٹک کے حجاب معاملے میں سپریم کورٹ کی بنچ کا فیصلہ منقسم رہا تھا، جس کے باعث حجاب کو اسلام کا لازمی مذہبی عمل قرار دینے یا نہ قرار دینے کے سوال پر سپریم کورٹ کا کوئی حتمی متفقہ فیصلہ موجود نہیں ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اسی تناظر میں موجودہ مقدمے میں اپنے سامنے پیش کیے گئے مواد کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔ اس مقدمے میں اسکول انتظامیہ کے ساتھ اترپردیش حکومت اور سی بی ایس ای نے بھی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ عدالت کا تازہ فیصلہ بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز رہا کہ آیا طالبہ اپنے مخصوص اسکول کی یونیفارم پالیسی سے حجاب کے لیے استثنا حاصل کرنے کا آئینی حق ثابت کرسکی یا نہیں۔ عدالت نے موجودہ مواد کی بنیاد پر اس کا جواب نفی میں دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK