Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگائوں : پاپلین کے بعد کاٹن اور پالیسٹر کے کارخانے بھی بند میں شامل

Updated: August 25, 2026, 3:33 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

صنعتی بحران طویل ہونے کا خدشہ ، کارخانے بند ہونے سے مزدوروں اور کاریگروںکی مشکلات میں اضافہ ہونے کا اندیشہ۔

The government is turning a deaf ear to the weavers` voices. Picture: INN
حکومت بنکروں کی آواز ان سنی کر رہی ہے۔ تصویر: آئی این این

صنعتی بحران طویل مدتی ہونے کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔ دو ماہ قبل شروع ہوئے بحران کے سبب اب تک  پاپلین کے کارخانے بند رکھے جا رہے تھے لیکن  اب اس بند  میں کاٹن،پی سی اور پالیسٹر کے بُنکر و کارخانے دار بھی شامل ہوگئے ہیں۔راجستھان کے صنعتی شہروں پالی،جودھ پور اور بالوترا میں کپڑے کی ڈائینگ و بلیچنگ یونٹس بند ہونے سے کپڑے کے پروڈکشن و خریداری پر خراب اثرات آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’آتشزدگی کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے ‘‘

اس معاملے میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں پاورلوم صنعت سے منسلک نمائندہ شخصیات  محمد آمین انصاری،محمد یوسف الیاس،عمیر سَر، ایڈوکیٹ ہدایت اللہ وغیرہ نے اپنی خیالات کا اظہار کیا۔کثیر تعداد میں شریک ہوئے بُنکروں نے ۲۶؍  سے۳۰؍ اگست تک کارخانے بند کرنے کے فیصلے سے اتفاق ظاہر کیا۔مقررین نے کہا کہ مالیگاؤں کی بنیادی معیشت پر کاری ضَرب لگ رہی ہے اور حکومتِ وقت پوری طرح خاموش ہے۔لاکھوں افراد کے روزگار کے ذرائع پر نت نئی اُفتاد آئی ہوئی ہے اور مسائل کے سدباب کیلئے اربابِ اقتدار سنجیدہ نہیں ہیں۔

مالیگاؤں کی صنعتی صورتِ حال کی خرابی پر ایڈوکیٹ مومن مجیب احمد نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے مرکزی حکومت کے ساتھ راجستھان و مہاراشٹر گورنمنٹ کو خطوط بھیجے جارہے ہیں۔ حکومتی سطح پر مسلسل گفتگو بھی ہورہی ہے۔اس معاملے میں مالیگاؤں کے پارچہ بافوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے ملاقات کرکے حالات سے واقف بھی کروایا ۔ اُدھر راجستھان گورنمنٹ کے چیف سیکریٹری تک رسائی حاصل کی گئی لیکن نتائج امید افزا نہیں مل سکے۔جیسے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات سرکاری سطح  پر  ہونا ضروری ہے ویسا کوئی ایکشن نظر نہیں آتا۔اس سے بُنکروں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کے اسپتال میں آگ، ۳؍ نوزائیدہ کی موت

پاپلین، کاٹن، پالیسٹر اور پی سی کوالیٹی کے کپڑوں کے پروڈکشن تھم جانے پر عمیر سَر نے کہا کہ مزدورطبقے کے مسائل بڑھ جائیں گے۔ کارخانوں میں تالے لگنے سے کاریگروں کی آمدنی متاثر ہوگی۔ایسا لگتا ہے جیسے جین زی نے جنترمنتر پر بیٹھ کر اپنا مسئلہ حل کروایا ویسے ہی پاورلوم مزدوروں اور کارخانے داروں کو اتحاد کی طاقت کے ساتھ صنعتی مسائل کے سدباب کیلئے اربابِ سیاست کو میدانِ عمل میں لانا پڑے گا۔

واضح  رہے کہ مالیگاؤں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔یہاں پر مختلف اقسام کے کپڑے تیار ہوکر اندرونِ ملک فروخت ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے قائم ان صنعتی مسائل پر حکومتی چشم پوشی پر مقامی بُنکروں میں ناراضگی پھیلی ہوئی ہے۔ پاپلین کے کارخانے ۳؍ مرتبہ بند ہو چکے ہیں لیکن حکومت نے اب تک ان کی کوئی خبر نہیں لی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK