Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کے اسپتال میں آگ، ۳؍ نوزائیدہ کی موت

Updated: August 25, 2026, 3:15 PM IST | Ali Imran | Amravati

۳۶؍ بچوں کو بچایا گیا جن میں سے ۶؍ بچوں کو نرسوں نے اپنی جان پرکھیل کر موت کے منہ سے نکالا، جانچ کیلئے ۷؍ رکنی کمیٹی تشکیل۔

A grieving family that lost their child. Picture: INN
اپنے بچے کو گنوانے والا ایک سوگوار خاندان۔ تصویر: پی ٹی آئی

امراوتی ضلع زنانہ اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے تین بچوں کی موت ہوگئی۔ آگ پیر کی صبح تقریباً سوا تین بجے نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ (ایس این سی یو) میں وینٹی لیٹر پھٹنے کے بعد لگی۔ آگ بہت تیزی سے پھیلی جس کے بعد موقع پر موجود اسپتال کے عملے نے نوزائیدہ یونٹ میں موجود بچوں کو باہر نکالا۔ کل ۳۶؍ بچوں کو بچایا گیا جس میں سے ۶؍ کو نرسوں کی بہادری کے سبب موت کے منہ سے نکالا گیا۔ اطلاع کے مطابق  جس جگہ آگ لگی وہاں۹؍ بچے زیر علاج تھے۔ ان میں سے ۶؍ کو بچایا جا سکا تاہم بدقسمتی سے ۳؍ بچوں کی موت ہوگئی۔ نوزائیدہ انتہائی نگہداشت کا یہ یونٹ صرف ایک سال قبل ہی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تھا۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے، کم وزن والے اور شدید بیمار بچوں کا یہاں علاج کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آگ لگنے کے بعداسپتال کا فائر فائٹنگ سسٹم کیوں فعال نہیں کیا گیا؟ اس واقعے نے اسپتال کے ایمرجنسی سیفٹی سسٹم پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور اس سانحے پر امراوتی سمیت مہاراشٹر بھر میں افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ماہر لسانیات، مراٹھی کی نامور ادیبہ یاسمین شیخ کی ۱۰۱؍ سال کی عمر میں وفات

موصولہ تفصیلات کے مطابق امراوتی ضلع زنانہ اسپتال کے نوزائیدہ وارڈ میں پیر کی صبح وینٹی لیٹر پھٹنے سے آگ لگ گئی۔ آگ لگنے کے بعد وہاں موجود ۳۶؍ بچوں کو بچایا گیا جن میں سے ۶؍ بچے موت کے منہ میں جا کر واپس آئے۔ ان ۶؍بچوں کی جانیں دو نرسوں کی بے خوف پھرتی کے سبب  بچ گئی۔ ان دو نرسوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر انہیں باہر نکالا۔ ان دونوں نرسوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آگ بہت بھیانک تھی، آگ کی وجہ سے اس وارڈ میں ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔ ہم کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہم نے اپنے جان کی پروا کئے بغیر۶؍ بچوں کو بچایا، لیکن جب آگ انتہائی بھیانک ہوگئی ہم بے بس تھے ہم تین بچوں کو نہیں بچا سکے جس کا ہمیں افسوس ہے۔

اس واقعہ میں بچائے گئے ۶؍ بچوں کو مزید علاج کیلئے  قریبی ڈیویژنل ریفرل سروس اسپتال (سپر اسپیشلٹی) منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان میں سے پانچ کا علاج جاری ہے اور ایک بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ اس بچے کے ہاتھ اور ٹانگیں جھلس گئی ہیں اور تین بچے معمولی طور پر جھلسے ہیں۔ بتادیں کہ تقریباً  ۷؍ سال قبل بھی ضلع زنانہ اسپتال کی پرانی عمارت میں نوزائیدہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی تھی۔ تاہم دھواں نکلتا دیکھ ڈیوٹی پر موجود عملے نے یونٹ سے ۲۲ بچوں کو بحفاظت باہر نکال کر بچوں کی جان بچائی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی قیاس آرائیاں

 اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم 

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس واقعے کو دلدوز اور المناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے مہلو ک بچوں کے اہل خانہ کو ۵؍ لاکھ روپے معائوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے معاملے کی جانچ کا حکم بھی دیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر وزیر صحت  پرکاش ارئو ابیٹکر اور ہیلتھ سیکریٹری امراوتی پہنچے اور انہوں نے اسپتال کا جائزہ لیا۔  اس کے بعد حادثے کی جانچ کیلئے ایک ۷؍ رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جو ۸؍ دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK