مہاراشٹر کے لسانی اور ادبی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جانے والی معمر ادیبہ اور ماہر لسانیات یاسمین شیخ کا ۱۰۱؍ سال کی عمر میں پونے کے ایک اولڈ ایج ہوم میں ہوئی۔ ان کے پسماندگان میں ان بیٹیاں ڈاکٹر شمع اور ڈاکٹر رخسانہ ہیں۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 3:10 PM IST | Pune
مہاراشٹر کے لسانی اور ادبی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جانے والی معمر ادیبہ اور ماہر لسانیات یاسمین شیخ کا ۱۰۱؍ سال کی عمر میں پونے کے ایک اولڈ ایج ہوم میں ہوئی۔ ان کے پسماندگان میں ان بیٹیاں ڈاکٹر شمع اور ڈاکٹر رخسانہ ہیں۔
مہاراشٹر کے لسانی اور ادبی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جانے والی معمر ادیبہ اور ماہر لسانیات یاسمین شیخ کا ۱۰۱؍ سال کی عمر میں پونے کے ایک اولڈ ایج ہوم میں ہوئی۔ ان کے پسماندگان میں ان بیٹیاں ڈاکٹر شمع اور ڈاکٹر رخسانہ ہیں۔ یاد رہے کہ یاسمین شیخ کو مراٹھی گرامر کا ماہر سمجھا جاتا تھا اور انہوں نے بطور مشیر کئی اداروں میں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی وفات پر ادبی اور سماجی حلقوں کے علاوہ خود وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار نے بھی انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اطلاع کے مطابق بنیادی طور پر یاسمین شیخ یہودی تھیں اور ان کا نام جیروشا روبین تھا لیکن عزیز احمد ابراہیم شیخ سے شادی کے بعد ان کا نام یاسمین شیخ پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اس کے شواہد نہیں ہیں کہ حجاب مسلمانوں کیلئے لازمی ہے: الہ آباد ہائی کورٹ
یاسمین شیخ کی پیدائش ۲۱؍ جون ۱۹۲۵ء کو پونے میں ایک یہودی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد ایک سرکاری ملازم تھے ۔ ان کے تبادلوں کی وجہ سے یاسمین شیخ کو ان کے ساتھ مختلف مقامات پر رہنے اور سفر کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے پونے کے ایس پی کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ مراٹھی زبان میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ پروفیسر ایس ایم ماٹے اور پروفیسر کے این واتوے جیسے استادوں کی انہیں رہنمائی حاصل رہی۔ اس کے بعد انہوں نے مراٹھی ہی میں ایم اے پاس کیا۔
یہ بھی پڑھئے: گُرمیت سنگھ کو ۲۱؍ دن کی فرلو، جیل سے ۱۷؍ ویں مرتبہ عارضی رہائی
۱۹۴۹ء میں جیروشا روبین نے عبدالعزیز ابراہیم شیخ سے شادی کی اور یاسمین شیخ بن گئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اورنگ آباد کے ملند کالج میںتدریسی کام شروع کیا۔ اس کے بعد ممبئی کے ایس آئی ایس کالج میں بھی انہوں نے پڑھایا۔ اس دوران انہیں پروشتم بھاگوت اور ورندا کرندیکر جیسے ادیبوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ حتیٰ کہ انہیں مراٹھی کا شعبہ صدر بنا یا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے زباندانی کے تعلق سے کام ترک نہیں کیا۔ انہوں نے مقابلہ جاتی امتحانات خاص کر آئی اے ایس اور آئی پی ایس امتحانات میں حصہ لینے والے طلبہ کو مراٹھی کی باریکیاں سکھانی شروع کی۔ مراٹھی کے ’انترنارد‘ نامی رسالے سے ان کا مضبوط رشتہ رہا۔ زبان و بیان کی غلطیوں کو دور کرنے اور الفاظ کے استعمال کی باریکیوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں انہیں مہارت حاصل تھی جس کی وجہ سے انہیں مراٹھی گرامر کا ماہر سمجھا جانے لگا اور کئی اداروں نے انہیں اپنے یہاں گرامر کیلئے خصوصی طور پر مشیر مقرر کیا۔ اس دوران انہوں نے ’مراٹھی لیکھن مارگ درشکا، مراٹھی شبد لیکھن کوش، اور سگم مراٹھی ویاکرن کوش ‘ نامی تین کتابیوں بھی تصنیف کیں۔ وہ عام طور پر خالص زبان استعمال کرنے پر زور دیا کرتی تھیں اور زبان کی غلطیوں کو دور کرنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ حال ہی میں پونے میں منعقدہ اکھل بھارتیہ مراٹھی سمیلن میں انہیں خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا لیکن عمر اور ضعیفی کے سبب وہ اس پروگرام میں شرکت نہیں کر سکیں۔ پونے میں ان کی آخری رسومات کے وقت کئی نامور مراٹھی ادیب حاضر رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’چڑھاوا چوری‘ کے بعد اب اُترپردیش میں ۵؍سرکاری اسکولوں کے ’چوری‘ ہو جانے کاالزام
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے یاسمین شیخ کی وفات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا’’ مراٹھی زبان پر عبور اور اس سے بے پناہ محبت کی بنا پر زباندانی کی اعلیٰ نذیر قائم کرنے والی ماہر لسانیات، اسکالر اور ادیبہ یاسمین شیخ کی وفات رنجیدہ کرنے والی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا ’’ مراٹھی کا ایک تناور درخت گر گیا۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ ڈاکٹر شیخ ڈاکٹر شیخ نے اپنی پوری زندگی مراٹھی زبان، لسانیات اور قواعد کے مطالعے اور فروغ کیلئے وقف کردی۔ مراٹھی زبان نے ایک مخلص اور دانشور شخصیت کو کھو دیا۔ ‘‘