Inquilab Logo Happiest Places to Work

امبیڈکر جینتی :مالونی میں مساجد کے سامنے سے احترام کے ساتھ گزرے جلوس کے شرکاء

Updated: April 16, 2026, 10:01 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ڈھول تاشہ، ڈی جے بجانے اور نعرے بازی سے مکمل گریز کیا بلکہ مساجد کے سامنےہاتھ جوڑ کر آگے بڑھے، خیرسگالی کا شاندار مظاہرہ،دل جیت لیا ۔

The Trustee Of The Malvani Mosque Was Welcomed In A Procession. Photo: INN
مالونی کی مسجد کے ٹرسٹی کا جلوس میں استقبال کیا گیا ۔تصویر: آئی این این
آئین ِہند کےمعمار ڈاکٹر بابا صاحب  امبیڈکر کی ۱۳۵؍ویں جینتی کے موقع پرمالونی (ملاڈ) میں نکلنے والے جلوس میں مساجد کا احترام ملحوظ رکھا گیا اور خیر سگالی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ جلوس میں شامل شرکاء نے مساجد کے قریب نہ ڈھول تاشہ بجایا گیا نہ ڈی جے اورنہ ہی نعرے بازی کی۔ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ جلوس میں پولیس کا بھاری بھرکم لاؤ لشکر بھی نہیں تھا بلکہ معمو ل کےمطابق پولیس کے جوان تعینات  تھے۔ 
وشو رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کرِتی سمیٹی مالونی کے زیراہتمام نکالے گئے جلوس کے ذمہ دار شرکاء نے مساجد کے ٹرسٹیان سے ملاقات کی، مساجد کے سامنے سے احتراماًہاتھ جوڑا اور عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے ہوئےآگے بڑھے۔ ٹرسٹیان ِ مساجد نے بھی  ان کے اس اندازپر کھل کر  بھائی چارہ کا  برتاؤ کیا اور مسجد کے سامنے سے جلوس گزرنے کے دوران کچھ نوجوانوں اور ٹرسٹیان نےباباصاحب کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش  کئے۔اس طرح دونوں جانب سے خیرسگالی  اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ امبوزواڑی سے گیٹ نمبر ایک فائر بریگیڈ تک نکلنے والے اس جلوس کے شرکاء کے استقبال کے لئے جگہ جگہ اسٹیج بنائے گئے تھے جہاں سے شرکاء جلوس کا استقبال کیا جارہا تھا ، انہیں پانی اور شربت اور اشیائے خورد و نوش بھی پیش کی جارہی تھیں۔   
 
 
مالونی میں نکالے گئے اس جلوس کے انعقاد میں رام داس بھیسارے، وکاس واگھمارے ،شنکر واکڑے اورنارائن وار کری وغیرہ پیش پیش تھے۔ یہ حضرات انجمن جامع مسجد کے صدر گیٹ کے سامنے بھی احتراماً کھڑے ہوئے تھے۔ رام داس بھیسارے نےنمائندۂ انقلاب کو کہا کہ’’ جلوس میں ہمارے مسلم بھائی اور دیگر ذات برادریوں کے لوگ سبھی شامل تھے۔ ہم بابا صاحب کے ماننے والے ہیں، ہم ایکتا اوربھائی چارے میں یقین رکھتے ہیں۔یہ مالونی کی اصل پہچان ہے اور ہم سب کی کوشش ہے کہ اس پہچان پر آنچ نہ آنے پائے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ ہم سب کو اصل طاقت بابا صاحب کے سمویدھان سے ملتی ہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ایکتا کے ذریعے اس کی حفاظت کریں  اور کسی کو بھی اسے نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی۔
 
 
انجمن جامع مسجد کے صدر جن کی ٹیم نے شرکائے جلوس کا استقبال کیا تھا، بتایا کہ’’ بابا صاحب کی جینتی پراس اندازمیں جلوس نکالا گیا کہ دل خوش ہوگیا، مسجد کے سامنے سے شرکاء جلوس امن و انسانیت، اتحاد وبھائی چارے کی مثال پیش کرتے ہوئے گزرے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ واقعی جلو س اسی اندازمیںنکلتا ہےمگر جب جلوس کی آڑ میں مقصد کچھ اور ہوتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں، اس کی تازہ مثال رام نومی کے موقع پرشوبھا یاترا کی ہے جب مالونی پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردی گئی تھی، لوگ گھروں میں قید ہوگئے تھے اورمسلمانوں کو کھل کر نشانہ بنایا گیا تھا ۔‘‘  یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ۲۶؍ مارچ کو رام نومی کے موقع پر شوبھا یاترا نکالی گئی تھی ۔ اس میں مساجد کے سامنے بالقصد زبردست ہنگامہ آرائی کی گئی تھی، ڈی جے بجانے کےساتھ دل آزار نعرے بازی کی گئی تھی۔ اسی شوبھا یاترا کے دوران ریاستی وزیرنتیش رانے نے دریدہ دہنی کاثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کوبرا بھلا کہا تھا ۔انہوں نےیہ بھی کہا تھا کہ مالونی ہندو راشٹر کا حصہ ہے۔ اس کے خلاف راشٹریہ علماء کونسل اور ایم آئی ایم نے مقامی پولیس میں شکایت کی تھی مگر پہلے کی طرح اب بھی ان  کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK