اسپین، آئر لینڈ اور سلوانیہ نے معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر جرمنی اور اٹلی نے مخالفت کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 9:56 AM IST | Mumbai
اسپین، آئر لینڈ اور سلوانیہ نے معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر جرمنی اور اٹلی نے مخالفت کی ہے۔
یورپی ممالک کے درمیان اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آ گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین، آئر لینڈ اور سلوانیہ نے معاہدہ معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر جرمنی اور اٹلی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے روک دیا ہے۔ اسرائیل کے خلاف غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیوں پر عالمی سطح پر تنقید بڑھ رہی ہے جہاں۲۰۲۳ء سے اب تک۷۲؍ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اس کے باوجود یورپی اتحاد مشترکہ موقف اختیار کرنے میں ناکام ہے۔۲۰۰۰ء میں نافذ ہونے والا یہ معاہدہ اسرائیل کو یورپی منڈی تک آسان رسائی اور کم محصولات جیسی سہولتیں دیتا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں اسرائیل اور یورپی ممالک کے درمیان تجارت کا حجم۴۲ء۶؍ ارب یورو رہا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ناقابل برداشت بد زبانی
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی جزوی معطلی سے اسرائیل کی تقریباً۵ء۸؍ارب یورو کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ معاہدے میں انسانی حقوق کی پابندی شرط ہے اور اسی بنیاد پر اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے، یورپی عوام کی جانب سے۱۰؍لاکھ سے زائد دستخط اس معاہدے کی معطلی کے لئے جمع ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: امریکہ تجارتی مذاکرات کی شرائط یکطرفہ طور پرطے نہیں کر سکتا: پی ایم کارنی
عرب میڈیا کے مطابق اختلافات کی بڑی وجہ یورپی ممالک کی مختلف تاریخیں اور سیاسی موقف ہیں، جرمنی دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں اسرائیل کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئر لینڈ فلسطینیوں کے حق میں ہے۔ معاہدہ معطل کرنے کے لئے تمام۲۷؍ ممالک کی منظوری ضروری ہے جو فی الحال ممکن نہیں۔ ادھر اسرائیل نے یورپ کے دائیں بازو کی حکومتوں سے قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں جس سے اسے یورپی پابندیوں سے تحفظ ملتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کی مکمل معطلی مشکل دکھائی دیتی ہے لیکن کچھ یورپی ممالک الگ الگ اقدامات کر رہے ہیں جن میں دفاعی معاہدوں کی معطلی اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر زیادہ محصولات لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔