Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے اسپین کو غزہ مرکز سے خارج کر دیا، تعلقات مزید کشیدہ

Updated: April 11, 2026, 9:03 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسپین کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد قائم امریکی زیرقیادت سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) کے کام میں شرکت سے روک رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈرون سار نے اسپین کی حکومت پر ’’اسرائیل مخالف تعصب‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس پلیٹ فارم پر تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتی۔

Spanish people protest by hanging an effigy of Netanyahu. Photo: X
اسپینی عوام نے نیتن یاہو کے پتلے کو پھانسی پر لٹکا کر احتجاج کیا۔ تصویر: ایکس

اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد قائم کیے گئے اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم، سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) سے اسپین کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ مرکزکریات گات میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی کی نگرانی، سیکوریٹی تعاون کو یقینی بنانا اور غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو منظم کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم میں امریکہ کی قیادت میں کئی ممالک بشمول فرانس، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجی و سفارتی نمائندے شامل ہیں، جو تباہ حال غزہ میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ”میناب ۱۶۸؍ فلائٹ“: ایرانی وفد کے طیارے میں میناب حملے میں جاں بحق تمام طلبہ کیلئے نشستیں مختص

اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اسپین کو اب سی ایم سی سی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کیا، جنہوں نے اسپین کی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سانچیز حکومت کا اسرائیل مخالف تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے نفاذ میں کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ اسی لیے اسپین کو کریات گات میں سی ایم سی سی میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘
اس فیصلے نے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اسپین اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے تھے جب پیڈرو سانچیز کی حکومت نے ۲۰۲۴ء میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ اس اقدام کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا، جو سفارتی سطح پر ایک غیر معمولی قدم سمجھا جاتا ہے۔ پیڈرو سانچیز نہ صرف فلسطینی ریاست کے حامی رہے ہیں بلکہ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سی این این: چین ایران کو فضائی دفاعی نظام دے سکتا ہے، کشیدگی برقرار

اس کے علاوہ، سانچیز نے ۲۸؍ فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل کارروائی کے تحت ایران کے خلاف جنگ کی بھی مخالفت کی، جس نے اسرائیل کے ساتھ اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔ دوسری جانب سی ایم سی سی جیسے پلیٹ فارم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ غزہ گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے شدید تباہی کا شکار ہے، جہاں بنیادی ڈھانچہ، صحت کا نظام اور شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی تعاون کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، اور اسپین جیسے یورپی ملک کا اس پلیٹ فارم سے اخراج ایک اہم سفارتی دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف اسرائیل اور اسپین کے تعلقات کو مزید خراب کرے گا بلکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی ہم آہنگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK