۴۰۰؍ سالہ قدیم سنت سکھرام مہاراج مندر کا’سبھا منڈپ‘ تباہ ۔حادثے سے نمٹنے کیلئے ہندو مسلم اتحاد کا بے مثال نظارہ دیکھنے کو ملا۔
پرانا مندر۔ تصویر:آئی این این
ضلع کے املنیر میں واقع سنت سکھرام مہاراج واڑی سنستھان مندر جو مہاراشٹربھر میں پرتی پنڈھر پور (پنڈھر پور کی نقل) کے نام سے مشہور ہے ۔یہاں بدھ کی شب شارٹ سرکٹ کی وجہ سے تقریباً۳۰:۸؍بجے اچانک آگ لگ گئی ۔مندر کا اسمبلی ہال (سبھا منڈپ) اس آتشزدگی میں جل گیا ہے جو تقریباً چار سو سال قبل ساگوان کی لکڑی سے تعمیر کیا گیا تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آگ بجھانے والوں میں علاقے کے مسلم اور ہندو نوجوان پیش پیش رہے۔
حاصل کردہ تفصیل کے مطابق بدھ کی صبح ہری بھکت پرائن پرساد مہاراج جو اس مندر سے وابستہ ہیں،،’سنت سکھارام مہاراج دنڈی (تیترا جلوس) ‘کی قیادت کرتے ہوئے پنڈھر پور کیلئے روانہ ہوئے ۔اسی شام کو تقریباً۳۰:۸؍ بجے سی سی ٹی وی سسٹم میں ایک شارٹ سرکٹ سے پرساد مہاراج کے کمرے میں آگ بھڑک اٹھی، جو تیزی سے پھیلتے ہوئے سنستھان کمپلیکس کے وٹھل-رکمنی مندر کے اوپر تک پہنچ گئی ۔چونکہ مندر کا ڈھانچہ مکمل طور پر ساگوان کی لکڑی سے بنا ہوا تھا اور اس پر کئی بر آئل پینٹ کیا گیا تھا، اس لیے آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔
اس دوران املنیر، پارولہ، دھرنگاؤں، چوپڑہ، اور شیرپور کے فائر بریگیڈ کے پانی کے ٹینکروں، پرائیویٹ گاڑیوں اور مقامی شہریوں نے فوراً آگ بجھائی گئی۔ جس وقت یہ حادثہ ہوا مندر میں تقریباً۳۵؍ سے۴۰؍لوگ موجود تھے، وہ بروقت محفوظ طریقے سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔
آگ بجھانے میں کون آگے آگے رہے؟
عینی شاہدین کے مطابق جس وقت آگ لگی مندر کے آس پاس رہنے والے افراد جن میں علاقے کے مسلم نوجوان بھی شامل ہیں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے آگ بجھانے کی مہم میں حصہ لیا۔اس مہم میں میونسپل کارپوریٹرس انیل مہاجن، پنکج چودھری، بالا سندانشیو، پنکج بھوئی، گوپی کاسر، اور سورج پردیشی، این سی پی شہر صدر چیتن راجپوت، اور جتیندر ٹھاکر، وجے پاٹل، سنجے کوتک پاٹل، مہندر پاٹل کے ساتھ شعیب شیخ، ارشد خان، حذیفہ پٹھان،عمران پٹھان، نعیم پٹھان، نصیب پٹھان، راجہ پٹھان، فرحان شیخ، عاقب پٹھان، اور رضوان خان سمیت دیگر نے امدادی سرگرمیوں میں شامل تھے۔ آگ بجھانے کی مہم میں ہندو مسلم اتحاد کے جذبے کو ظاہر کیا۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) میور بھنگلے نے کہا کہ املنیر میں واقع اس واڑی کو جہاں کبھی سنت سکھارام مہاراج رہتے تھے ، آتشزدگی کے سبب کافی نقصان پہنچا ہے۔ اسلئے اسٹرکچرل آڈٹ کیا جارہا ہے اور اس باعث مندر کچھ دنوں کے لیے عقیدت مندوں کے لیے بند رہے گا۔
اس معاملے پر واڑی سنستھان کے ذمہ دار پرساد مہاراج نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ ’’آج کا واقعہ افسوسناک ہے۔ اس مندر کی۴۰۰؍ سال پرانی تاریخ ہے۔ شبہ ہے کہ سی سی ٹی کیمرہ کے یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی۔ نقصان کا باضابطہ پنچنامہ اور اسٹرکچل آڈٹ کیا جائے گا۔‘‘اس معاملے پر اسمبلی کے جاری مانسون سیشن میں ایم ایل اے چندر کانت رگھوونشی نے پوائنٹ آف انفارمیشن کے ذریعے سرکار کی توجہ اس حادثے کی جانب سے متوجہ کروائی اور مندر کی تعمیر نو کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا ۔