Updated: July 30, 2026, 10:11 PM IST
| Islamabad
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات فوری طور پر بحال کریں ، او ر سیکیورٹی فورسیز کے ذریعے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران راولاکوٹ میں مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی آزادانہ تحقیقات کریں ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات فوری طور پر بحال کریں ، او ر سیکیورٹی فورسیز کے ذریعے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران راولاکوٹ میں مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی آزادانہ تحقیقات کریں ۔۲۷؍ جولائی کو راولاکوٹ میں تشدد بھڑک اُٹھا، جبکہ کوٹلی میں حریف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان علیحدہ جھڑپ میں ایک سیاسی کارکن ہلاک ہو گیا۔جموں و کشمیر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مطابق، راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسیز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں۱۹؍ مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تشدد کی اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قائمقام علاقائی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا، ازابیل لاسی نے کہا کہ یہ الزامات اس خطے میں مظاہرین کے خلاف پاکستان کی طویل تاریخ کے غیرقانونی تشدد کے مطابق ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک انٹرنیٹ اور موبائل خدمات کی بندش برقرار ہے، یہ زمینی صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ تمام مواصلاتی خدمات بحال کریں اور میڈیا تنظیموں اور آزاد مبصرین کو علاقے تک رسائی دیں۔ایمنسٹی نے پاکستانی حکومت کےمقبوضہ کشمیر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی، کہا کہ اس پابندی نے انتخابات سے قبل کشیدگی بڑھا دی ہے۔لاسی نے کہا کہ اس پابندی کو مظاہرین کے خلاف مہلک تشدد کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ایمنسٹی کے مطالبے کا اعادہ کیا کہ حکام پابندی ہٹائیں اور دہشت گردی مخالف قوانین کو جے اے اے سی کے ارکان اور حامیوں کو خاموش کرنے اور من مانے طریقے سے حراست میں لینے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔ایمنسٹی نے مزید بتایا کہ۵؍ جون سے مقبوضہ کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں، اسی روز جے اے اے سی کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ۲۰۱۴ء کے تحت ’’ممنوعہ تنظیم‘‘ قرار دیا گیا تھا۔تنظیم نے بتایا کہ انتخابات سے قبل کے عرصے میں، میڈیا رپورٹس کے مطابق، خطے بھر میں ہفتوں کی بدامنی کے دوران کم از کم۴۰؍ افراد ہلاک ہوئے، جن میں۳۴؍ مظاہرین اور چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل تھے۔
بعد ازاں اتوار کو ووٹنگ شروع ہوئی جب حکام نے سیکیورٹی فورسز پر دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کو تین مراحل میں تقسیم کیا۔خطے کے بیشتر حصے میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات معطل رہیں، امیدواروں کا کہنا تھا کہ پابندیوں نے مہم اور ووٹروں سے رابطے کو شدید متاثر کیا۔دریں اثناء مظاہرے کی قیادت جموں کشمیر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کر رہی ہے، جس کے مطالبات سبسڈی والے آٹے اور سستی بجلی سے بڑھ کر وسیع تر سیاسی اصلاحات تک پھیل گئے ہیں، جن میں کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص۱۲؍ قانون ساز اسمبلی نشستوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔اس تنظیم پر مقامی حکومت نے جون میں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کی تھی، اور اس کے متعدد لیڈروں کو اس کے بعد سے گرفتار کیا گیا ہے یا وہ زیرِ زمین چلے گئے ہیں۔ تاہم جے اے اے سی نے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے، الزام ہے کہ مخصوص نشستیں پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتوں کو علاقائی مقننہ کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ عرب، فلسطینی تنظیموں کی القدس، مسجد اقصیٰ کے تحفظ کیلئے ہنگامی اپیل
دریں اثنا، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو ’’ہندوستان کی طرح دشمن‘‘ سمجھتے ہیں،جبکہ ان کے بیان کی حقوق کے حامیوں نے مذمت کی۔ مزید برآں تشدد نے برطانوی قانون سازوںمیں بھی تشویش پید ا کی، جنہوں نے شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات کے درمیان احتساب اور تحمل کا مطالبہ کیا۔برطانوی لیبر ایم پی ناز شاہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے میرپور اور دیگر حصوں میں مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے ’’اپنے سیاسی خیالات کا پرامن اظہار کرنے والے لوگوں‘‘ پر فائرنگ کو وحشیانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتی نمائندوں کے سامنے اٹھائیں گی، احتساب اور پرامن حل کا مطالبہ کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے اسرائیل کو اسلحے کے ۲۵۹۶ کھیپ بھیجے: ایمنسٹی انٹرنیشنل؛ غزہ نسل کشی میں معاونت کا انتباہ
جبکہ لیبر ایم پی عمران حسین نے بھی اس خطے میں کشیدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سنگین اضافے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور سفارتی ذرائع سے مزید خونریزی کو روکیں۔