• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس میں طلبہ سڑکوں پر: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا حکام سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

Updated: October 06, 2026, 9:05 PM IST | Paris

فرانسیسی طلبہ مزید وسائل، اسکولوں کی عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال، کلاسوں میں طلبہ کی کم تعداد اور عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فرانسیسی ہیومن رائٹس لیگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مجموعی طور پر ”قانون کی حکمرانی سے انحراف“ کا الزام عائد کیا اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مداخلت کے دوران قانونی معیارات کا احترام کرنے میں پولیس کے ناکام رہنے کا دعویٰ کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانسیسی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں پھیلنے والے طلبہ کے احتجاج پر پولیس کے ”غیر متناسب“ ردِعمل کو روکیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل فرانس کی سربراہ این سیوینیل باراس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ”چونکہ طلبہ اور نوجوان فرانس بھر میں سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں، اس لئے حکام کو ان کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا چاہئے اور پرامن مظاہرہ کرنے کے ان کے حق کے استعمال کو تحفظ اور سہولت فراہم کرنی چاہئے۔“

سیوینیل باراس نے کہا کہ پولیس کا کوئی بھی ردِعمل ”قانونی، ضروری اور متناسب ہونا چاہئے۔“ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ طاقت کے غیرضروری اور ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آنے والے ویڈیوز آنسو گیس، لاٹھیوں اور قابو پانے کی تکنیکوں کے استعمال پر ”تشویشناک خدشات پیدا کرتے ہیں۔“ مبینہ طور پر آنسو گیس کے گرینیڈ ”لاپرواہی سے“ داغے گئے اور ربڑ کی گولیوں سے شدید چوٹیں آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ترجیح کشیدگی میں کمی ہونی چاہئے۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن ایجنسی نے کشمیری فلم ساز کو ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا

فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈورڈ جیفری نے پیر کو بتایا کہ ستمبر کے وسط میں پیرس خطے میں تعلیمی حالات پر احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ۱۹۰ طلبہ زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہرے پیر کے روز بھی ملک بھر میں جاری رہے۔ جیفری نے اطلاع دی کہ احتجاج کی وجہ سے ۵۸۹ تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔ بی ایف ایم ٹی وی (BFMTV) کے حوالے سے بتائے گئے ایک عدالتی ذرائع کے مطابق، تحریک شروع ہونے کے بعد سے اب تک ۵۰۶۰ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں ۸۷ فیصد نابالغ ہیں۔

فرانسیسی ہیومن رائٹس لیگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مجموعی طور پر ”قانون کی حکمرانی سے انحراف“ کا الزام عائد کیا اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مداخلت کے دوران قانونی معیارات کا احترام کرنے میں پولیس کے ناکام رہنے کا دعویٰ کیا۔ فرانس کے جنرل انسپکٹوریٹ آف دی نیشنل پولیس نے مظاہروں سے جڑے واقعات پر پانچ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ریلی میں خالی نشستوں کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو ’گرفتار‘ کیا جانا چاہیے: ٹرمپ

وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پانچ تجاویز پیش کی ہیں اور اکتوبر کے اختتام سے قبل فیصلوں پر پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ طلبہ مزید وسائل، اسکولوں کی عمارتوں کی بہتر دیکھ بھال، کلاسوں میں طلبہ کی کم تعداد اور عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK