Updated: October 06, 2026, 9:04 PM IST
| London
۵؍ اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ملکہ وکٹوریہ کی اردو سیکھنے اور باقاعدہ مشق کرنے کی تقریباً ۱۳۰؍ سال پرانی داستان سوشل میڈیا پر دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ۱۸۸۷ء میں گولڈن جوبلی کے سال وکٹوریہ نے ہندوستانی زبان، جسے شاہی ریکارڈ میں ہندوستانی اور اردو دونوں حوالوں سے بیان کیا گیا ہے، سیکھنا شروع کی تھی۔ ان کے استاد آگرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الکریم تھے، جو ابتدا میں شاہی گھرانے میں کھانے کی میز پر خدمات انجام دینے آئے تھے، مگر بعد میں ملکہ کے منشی اور ہندوستانی سیکریٹری بن گئے۔ رائل آرکائیوز میں وکٹوریہ کی اردو مشق کی نوٹ بکس آج بھی محفوظ ہیں۔
ملکہ وکٹوریہ اردو کے ٹیچر عبدالکریم کے ہمراہ جبکہ ان کا اردو کا ہوم ورک۔ تصویر: ایکس
۵؍ اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ملکہ وکٹوریہ کی اردو کی مشق کی تصاویر نے برطانوی شاہی تاریخ کے ایک دلچسپ باب کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ تقریباً ۱۳۰؍ سال قبل برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نہ صرف ہندوستانی زبان سیکھ رہی تھیں بلکہ اپنے استاد عبد الکریم کی مدد سے اردو رسم الخط میں روزمرہ ڈائری کے حصے بھی لکھتی تھیں۔ ان مشقوں کی نوٹ بکس آج بھی رائل کلیکشن کے آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ خیال رہے کہ ۵؍ اکتوبر کو ہر سال عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق ۲۰۲۶ء میں یہ دن ۱۹۶۶ء میں اساتذہ کے مقام اور حقوق سے متعلق آئی ایل او۔ یونیسکو سفارشات کے ۶۰؍ سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منایا گیا اور اس سال کا موضوع تھا: ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں: پیشے کے تحفظ، مقام کی بلندی اور ہمارے مستقبل کی تشکیل کے ۶۰؍ سال۔‘‘ اسی تناظر میں وکٹوریہ اور عبد الکریم کی بطور شاگرد اور استاد کی یہ تاریخی داستان ایک منفرد مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن ایجنسی نے کشمیری فلم ساز کو ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا
’ہندوستانی‘ سے اردو تک کا سفر
ملکہ وکٹوریہ نے ۱۸۸۷ء میں، اپنی گولڈن جوبلی کے سال، ہندوستانی زبان سیکھنا شروع کی تھی۔ رائل آرکائیوز میں موجود ان کے ایک اندراج کے مطابق وہ ہندوستانی خادموں سے بات کرنے کے لیے ’’ہندوستانی کے چند الفاظ‘‘ سیکھ رہی تھیں۔ شاہی ریکارڈ میں اسی ہندوستانی کی وضاحت اردو کے طور پر بھی کی گئی ہے۔ بعد میں یہ ابتدائی الفاظ محض بول چال تک محدود نہیں رہے بلکہ باقاعدہ تحریری مشق میں تبدیل ہوگئے۔
یہاں ’ہندوستانی‘ اور ’اردو‘ کا فرق سمجھنا بھی اہم ہے۔ انیسویں صدی میں برطانوی ہندوستان کے سرکاری اور روزمرہ استعمال میں ’’ہندوستانی‘‘ ایک وسیع اصطلاح تھی، جو مختلف علاقوں اور طبقات میں رائج زبان کی طرف اشارہ کرتی تھی۔ رائل کلیکشن بھی وکٹوریہ کی تعلیم کو Hindustani (Hindi/Urdu) کے طور پر بیان کرتا ہے، جب کہ ان کی محفوظ ڈائریوں میں تحریری مشق اردو رسم الخط میں ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس تاریخی واقعے کو محض ایک دلچسپ شاہی قصے سے آگے لے جاتا ہے۔ وکٹوریہ جس زبان کو سیکھ رہی تھیں، اس کا تعلق صرف چند الفاظ یاد کرنے سے نہیں تھا۔ ان کے محفوظ اسباق میں زبان، جملے کی ساخت، ترجمہ اور اردو رسم الخط کی مشق شامل تھی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے
عبد الکریم: شاہی محل کے خادم سے اردو کے استاد تک
عبد الکریم آگرہ سے تعلق رکھتے تھے اور ۱۸۸۷ء میں ملکہ کے گولڈن جوبلی کی تقریبات کے دوران شاہی گھرانے میں آئے۔ ابتدا میں ان کی ذمہ داری کھانے کی میز پر خدمات انجام دینا تھی۔ لیکن ملکہ کو ہندوستان، ہندوستانی تہذیب اور زبان کے بارے میں ان سے باتیں کرنا پسند آنے لگا۔ چند ہی ہفتوں میں عبد الکریم نے انہیں ہندوستانی کے الفاظ سکھانا شروع کر دیے۔ رفتہ رفتہ عبد الکریم کی حیثیت بدلتی گئی۔ وہ صرف شاہی ملازم نہیں رہے بلکہ ملکہ کے منشی بن گئے۔ ’’منشی‘‘ اس دور میں استاد، لکھاری یا زبان سکھانے والے شخص کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ رائل آرکائیوز انہیں ملکہ کے Indian Secretary and Munshi کے طور پر درج کرتا ہے۔ اردو کی تعلیم بھی اسی تعلق کا حصہ تھی۔ پہلے بول چال کی مشق ہوئی، پھر لکھنے کی باری آئی اور بالآخر ملکہ نے اپنے روزمرہ جریدے کے کچھ حصے اردو میں لکھنے شروع کیے۔
یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک ایک ’غنڈہ‘ ہے جو صرف اسے جواب دینے والوں کی عزت کرتا ہے: سیم آلٹمین
ملکہ کا اردو ہوم ورک کیسا تھا؟
یہاں اس قصے کا سب سے دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ رائل آرکائیوز میں موجود نوٹ بکس محض ذاتی ڈائریاں نہیں بلکہ روزانہ کی زبان کی مشقوں کا ریکارڈ ہیں۔ رائل کلیکشن کے مطابق وکٹوریہ کی روزانہ ڈائری کے ایک حصے کو اردو میں لکھا جاتا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زبان سیکھنے کا عمل باقاعدہ مشق کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ ۱۸۹۵ء کی ایک محفوظ ڈائری خاص طور پر اہم ہے۔ اس میں اردو کے حروف خود ملکہ وکٹوریہ کی تحریر میں نظر آتے ہیں، جبکہ عبد الکریم نے ان کے لیے سبق اور رہنمائی تیار کی تھی۔ یہ ڈائری بعد میں پہلی مرتبہ عوام کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی۔ ان مشقوں کا طریقہ بھی دلچسپ تھا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ایک ہی سبق میں زبان سیکھنے کے مختلف مرحلے دکھائی دیتے ہیں۔ صفحے پر انگریزی عبارت، اس کا ہندوستانی ترجمہ اور پھر اردو رسم الخط شامل کیا جاتا تھا۔ وکٹوریہ آخر میں اردو کے الفاظ کو دائیں سے بائیں لکھنے کی مشق کرتی تھیں۔ یعنی یہ محض اردو الفاظ نقل کرنے کا کام نہیں تھا؛ اس میں ترجمہ، جملے کی ترتیب، الفاظ کے استعمال اور رسم الخط سب شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تحریر میں بھی بہتری آئی۔ انگلش ہیریٹیج کے مطابق ۱۸۹۹ء تک پہنچتے پہنچتے وکٹوریہ کی ہندوستانی ڈائریوں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ طویل اور بہتر تحریریں نظر آنے لگیں۔ وہ تقریباً اپنی وفات تک اس زبان کے مطالعے سے وابستہ رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریلی میں خالی نشستوں کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو ’گرفتار‘ کیا جانا چاہیے: ٹرمپ
نوٹ بکس کی تعداد بھی ایک راز بتاتی ہے
رائل آرکائیوز کے پاس وکٹوریہ کی ہندوستانی ڈائریوں کی نو جلدیں موجود ہیں۔ ان میں آٹھ بڑی سیاہ و سنہری جلدیں اور ایک چھوٹی سرخ و سنہری جلد شامل ہے۔ ان محفوظ جلدوں میں ابتدائی سات کے سرورق پر نمبر ۶؍ سے ۱۲؍ تک درج ہیں۔ اس بنیاد پر آرکائیوز کا کہنا ہے کہ اصل مجموعہ ممکنہ طور پر کم از کم ۱۳؍ جلدوں پر مشتمل رہا ہوگا۔ ان میں سے ایک الگ جلد تقریباً ۱۸۹۵ء کی ہے، جسے ہندوستانی الفاظ اور جملوں کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔ رائل آرکائیوز کے مطابق غالب امکان ہے کہ اسے خود عبد الکریم نے تیار کیا تھا۔ اس چھوٹی سرخ و سنہری جلد کا ریکارڈ بھی زبان کے طور پر اردو اور انگریزی دونوں کا ذکر کرتا ہے۔ محفوظ ڈائریوں کا باقاعدہ آرکائیوی ریکارڈ ۱۸۹۲ء سے ۱۹۰۰ء تک پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح وکٹوریہ کی زبان سیکھنے کا یہ سفر چند ہفتوں یا چند ماہ کا شوق نہیں تھا بلکہ ان کی زندگی کے آخری برسوں تک جاری رہنے والی مستقل مشق تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مصر: صدر سیسی نے دریائے نیل کے پانی کے حقوق پر کسی بھی خطرے کو مسترد کر دیا
اردو صرف ملکہ کا شوق نہیں، ہندوستان سے تعلق کا ذریعہ بھی تھی
وکٹوریہ نے ۱۸۷۷ء میں ہندوستان کی ملکہ کا خطاب حاصل کیا تھا، لیکن وہ خود کبھی ہندوستان نہیں گئیں۔ ہندوستان ان کے لیے ایک دور دراز سلطنت تھی جس کے بارے میں وہ اپنے ہندوستانی ملازمین اور درباریوں سے معلومات حاصل کرتی تھیں۔ عبد الکریم نے انہیں ہندوستان، اپنے شہر آگرہ اور ہندوستانی معاشرت کے بارے میں بتایا۔ زبان سیکھنے نے اس دلچسپی کو ایک اور ذاتی سطح فراہم کی۔ اس لحاظ سے وکٹوریہ کا اردو سیکھنا برطانوی شاہی زندگی کے اندر ہندوستانی زبان کی موجودگی کی ایک نادر دستاویز بھی ہے۔ ایک طرف برطانوی سلطنت ہندوستان پر حکمرانی کر رہی تھی، دوسری طرف اسی سلطنت کی ملکہ اپنے ایک ہندوستانی استاد سے اس زبان کا رسم الخط سیکھ رہی تھیں جسے ان کے دربار میں موجود ہندوستانی لوگ استعمال کرتے تھے۔