• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریلی میں خالی نشستوں کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو ’گرفتار‘ کیا جانا چاہیے: ٹرمپ

Updated: October 06, 2026, 8:02 PM IST | Washington

امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ انتخابی ریلی میں خالی نشستوں کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو ’گرفتار‘ کیا جانا چاہیے، صدر کا دعویٰ ہے کہ اوہائیو کے وینڈالیا ایونٹ کے دوران اوپری حصے کی خالی نشستیں صرف حاضرین کے مرکزی فلور پر نیچے آنے کی وجہ سے تھیں۔

Photo: PTI
تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو تجویز پیش کی کہ دی نیویارک ٹائمز اور دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس کے رپورٹرز کو اوہائیو میں ان کے ویک اینڈ مہم کے ایونٹ کی کوریج کے بعد ’’گرفتار‘‘ کیا جانا چاہیے۔یہ ردعمل نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار کیٹی راجرز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے نوٹ کیا کہ سنیچرکو وینڈالیا، اوہائیو میں بٹلر ہائی اسکول میں ٹرمپ کی تقریر ختم ہونے تک اوپری ڈیک کے کئی حصے خالی تھے۔ راجرز نے رپورٹ کیا کہ اسکول کے اسٹوڈنٹ سینٹر، جہاں یہ ایونٹ ہوا، میں ۴۵۰۰؍ افراد کی گنجائش ہے۔بعد ازاں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹس کے ایک سلسلے میں ان تفصیلات کو متنازع قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ پنڈال بھرا ہوا تھا اور دلیل دی کہ اوپری حصے کا خالی ہونا محض سامعین کے نیچے آنے کا نتیجہ تھا۔ٹرمپ نے لکھا، ’’جعلی خبر، نیویارک ٹائمز نے اوہائیو میں میری عظیم، کھچا کھچ بھری ریلی کے بارے میںرپورٹ کیا کہ، جگہ بھری نہیں تھی۔ اوپری حصے کے کچھ حصے تقریباً مکمل طور پر خالی تھے۔حقیقت میں، ہزاروں لوگ اندر نہیں آ سکے۔ ایرینا مکمل طور پر بھرا ہوا تھا، بشمول تمام اوپری حصے۔میری تمام ریلیوں میں جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اوپری حصوں میں بیٹھے لوگ مرکزی فلور کی طرف آنے لگتے ہیں ۔ یہ منتقلی کا عمل ہمیشہ ہوتا ہے!

یہ بھی پڑھئے: برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے

مزید برآں ایک اور پوسٹ میں، ٹرمپ نے دیگر سیاسی شخصیات کے مقابلے میں اپنے ہجوم کے سائز کی میڈیا کوریج پر تنقید کی اور صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ٹرمپ نے لکھا، ’’اوہائیو ایرینا پہلے سے ہی لبالب بھرا ہوا تھا ۔ اور پھر بھی یہ لوگ اندر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔نیویارک ٹائمز نے کہا، خالی نشستیں تھیں جبکہ حقیقت میں کوئی بھی نشست خالی نہیں تھی، اور ہزاروں لوگوں کو واپس جانا پڑا۔ نیویارک ٹائمز، اور بہت سے دیگر مصنوعی میڈیا آؤٹ لیٹس کو ان کی بے ایمانی اور ہمارے ملک کے تئیں غلط خدمت کے لیے گرفتار کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا،’’جب برنی سینڈرز کے پاس۵۰۰؍ سے۱۰۰۰؍ لوگ ہوتے ہیں، تو وہ اسے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے یہ اب تک کی سب سے بڑی تقریب ہو۔ جب صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ کے پاس۵۰؍ ہزار  لوگ ہوتے ہیں، تو وہ اسے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے کوئی آیا ہی نہ ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ایران کیخلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا

علاوہ ازیں ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ایونٹس کے بارے میں میڈیا رپورٹس کا مقابلہ کرنے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے لکھا، ’’میرے پاس مختلف ایریناز کی شوٹنگ کرنے والے سینماٹوگرافرز ہیں جہاں میں تقریر کرتا ہوں، کیونکہ کچھ جعلی خبریں بے ایمانی سے جھوٹ اور غلط باتیں رپورٹ کرنا پسند کرتی ہیں۔‘‘مزید برآں انہوں نے اصرار کیا کہ ان کے ایونٹس پہلے سے کہیں زیادہ پرجوش ہیں اور انہیں ایسے واقعات قرار دیا جو دوبارہ کبھی دہرائے نہیں جائیں گے۔
واضح رہے کہ ریلی کے دوران ہی، جو ریپبلکن امیدوار جان ہسٹڈ کی سینیٹ کی دوڑ میں سابق ڈیموکریٹک سینیٹر شیرڈ براؤن کے خلاف حمایت کے لیے منعقد کی گئی تھی، ٹرمپ نے اسٹیج سے براہ راست ہجوم کے سائز پر بات کی۔انہوں نے کہا، ’’باہر ہزاروں لوگ ہیں جو اندر نہیں آ سکے۔اگر آپ اپنی نشست چھوڑنا چاہتے ہیں تو براہ کرم، ہم اس کا بندوبست کر سکتے ہیں، یہاں سے نکل جائیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK