Inquilab Logo Happiest Places to Work

امروہہ کی دستکاری صنعت کا وجود خطرے، دو دہائیوں میں ۸۰۰؍ اکائیاں بند

Updated: August 07, 2026, 9:06 PM IST | Amroha

بیڈ شیٹ، قالین اور ٹیبل کور جیسی دستکاری پر مبنی کپڑے کی مصنوعات کے لیے ملک بھر میں پہچان رکھنے والی اتر پردیش کی امروہہ ہتھ کرگھہ صنعت آج سنگین بحران سے گزر رہی ہے۔ کبھی ضلع کی تقریباً ۱۷؍ فیصد آبادی کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار دینے والی یہ روایتی کاٹیج انڈسٹری خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمت، مارکیٹنگ کے نظام کے فقدان اور سرکاری سہولیات کی کمی کے باعث مسلسل سمٹتی جا رہی ہے۔

Amroha Handloom Closed.Photo:INN
امروہہ ہینڈلوم بندہے۔ تصویر:آئی این این

بیڈ شیٹ، قالین اور ٹیبل کور جیسی دستکاری پر مبنی کپڑے کی مصنوعات کے لیے ملک بھر میں پہچان رکھنے والی اتر پردیش کی امروہہ ہتھ کرگھہ صنعت آج سنگین بحران سے گزر رہی ہے۔ کبھی ضلع کی تقریباً ۱۷؍ فیصد آبادی کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار دینے والی یہ روایتی کاٹیج انڈسٹری خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمت، مارکیٹنگ کے نظام کے فقدان اور سرکاری سہولیات کی کمی کے باعث مسلسل سمٹتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اگر ’’رامائن‘‘ کو آسکر نہ ملا تو مجھے مایوسی ہوگی: دیویندر فرنویس


تقریباً دو دہائی قبل امروہہ اور نوگاؤں سادات علاقے میں ایک ہزار سے زائد ہتھ کرگھہ اکائیاں فعال تھیں، لیکن اب ان کی تعداد گھٹ کر تقریباً ۲۰۰؍ رہ گئی ہے۔ تقریباً ۸۰۰؍ چھوٹی بڑی اکائیوں کے بند ہونے سے ہزاروں بنکر خاندانوں کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے اور اس سے جڑے قالین کے کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ منڈی دھنورا کا تاریخی علاقہ کبھی ہتھ کرگھہ اور کھادی گرام ادیوگ کے ماڈل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہاں سابق وزیراعظم مرار جی دیسائی سمیت ملکی و غیر ملکی وفود کھادی گرام ادیوگ ماڈل کو دیکھنے پہنچتے تھے۔ وقت کے ساتھ سرکاری سرپرستی اور مارکیٹنگ کا نظام کمزور ہونے سے یہ علاقہ بھی اپنے پرانے وقار کو کھوتا چلا گیا۔
نیشنل بنکر ہتھ کرگھہ صنعتی پیداواری کوآپریٹو سوسائٹی کے مطابق، پہلے اتر پردیش ہتھ کرگھہ کارپوریشن کے پرچیز ڈپو کے ذریعے ہر بنکر سے ماہانہ ۱۲؍ بیڈ شیٹ خریدی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ مقامی سوت مل سے سات فیصد سبسیڈی پر دھاگہ فراہم کرایا جاتا تھا۔ اس نظام سے تقریباً پانچ ہزار لوگوں کو براہِ راست روزگار ملتا تھا۔ پرچیز ڈپو اور مقامی سوت مل کے بند ہونے کے بعد بنکروں کے سامنے خام مال کا بحران پیدا ہوگیا۔ اب انہیں مہنگا دھاگہ اور دیگر خام مال ہریانہ کے پانی پت سے منگوانا پڑ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور پیداواری لاگت بڑھنے سے تیار مصنوعات پر منافع مسلسل کم ہوا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں ماہر کاریگر اپنے آبائی پیشے کو چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف جانے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان


مقامی تاجروں اور بنکر تنظیموں نے پانی پت پر انحصار ختم کرنے کے لیے طویل عرصے سے بند پڑی کوآپریٹو اسپننگ مل کو دوبارہ شروع کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر دھاگہ دستیاب ہونے سے پیداواری لاگت گھٹے گی اور بنکروں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK