• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن کا ۱۰۰؍ سالہ ہندوستانی ریسٹورنٹ بے دخلی کے خلاف عدالت پہنچ گیا

Updated: November 07, 2026, 7:02 PM IST | London

کنگ چارلس کے زیرِ انتظام کراؤن اسٹیٹ اور برطانیہ کے قدیم ترین ہندوستانی ریسٹورنٹ ’ویر سوامی‘ کے درمیان لیز کا تنازع عدالت پہنچ گیا ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالکان کا الزام ہے کہ عمارت میں اعلیٰ درجے کے دفاتر بنانے کے منصوبے کے تحت اسے باہر کیا جا رہا ہے، جبکہ کراؤن اسٹیٹ کا کہنا ہے کہ عمارت کی جامع تزئین و مرمت کے لیے جگہ خالی کرانا ضروری ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

برطانیہ میں ہندوستانی کھانوں کی ایک صدی پرانی روایت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ لندن کی مشہور ریجنٹ اسٹریٹ (Regent Street) پر واقع ملک کے قدیم ترین ہندوستانی ریسٹورنٹ ’ویر سوامی‘ (Veeraswamy) نے اپنی تاریخی جگہ سے بے دخلی کے خلاف کنگ چارلس کے کراؤن اسٹیٹ (The Crown Estate) کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالکان کا کہنا ہے کہ عمارت میں نئے اور مہنگے دفاتر قائم کرنے کے منصوبے کے درمیان مالک مکان ہندوستانی ریسٹورنٹ کو برقرار نہیں رکھنا چاہتا، جبکہ کراؤن اسٹیٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے عمارت کی ازسرنو تعمیر اور جدید کاری کو اپنی کارروائی کی وجہ قرار دیا ہے۔یہ تنازع ۵؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو عدالت میں سماعت کے لیے پہنچا۔ ریسٹورنٹ کی مالک کمپنی ایم ڈبلیو ایٹ (MW Eat Ltd) نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ کراؤن اسٹیٹ کو اس کی نئی لیز کی درخواست کی مخالفت کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ ریسٹورنٹ کی سابقہ لیز ۲۰۲۵ء میں ختم ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی اسی عمارت میں کاروبار کر رہا ہے۔ مالکان کا موقف ہے کہ اگر انہیں وہاں سے منتقل ہونا پڑا تو اس تاریخی ادارے کو تقریباً ۵۰؍ لاکھ پاؤنڈ تک کا نقصان اور اخراجات برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں۔


ریسٹورنٹ کے وکیل گائے فیدرسٹن ہاف کے سی (Guy Fetherstonhaugh KC) نے عدالت میں دلیل دی کہ عمارت میں مجوزہ کام کے لیے ریسٹورنٹ کو مستقل طور پر ہٹانے کی ضرورت ثابت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ریسٹورنٹ کی جگہ اچھی حالت میں ہے اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی کوئی خرابی نہیں جس کے باعث اسے بند کرنا ناگزیر ہو۔ مالکان کا الزام ہے کہ کراؤن اسٹیٹ دراصل عمارت کے بالائی حصوں کو اعلیٰ درجے کے دفاتر میں تبدیل کرکے زیادہ کرایہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس منصوبے میں ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ کی موجودگی اسے موزوں نہیں لگتی۔ وکیل نے مالک مکان کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دفتر استعمال کرنے والوں کے لیے ریسٹورنٹ کے ساتھ مشترکہ داخلی راستہ اعلیٰ درجے کے دفتری ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے یورپ کو شامل کرتے ہوئے بڑے امن معاہدے کی تیاری کا اعلان کیا

دوسری جانب کراؤن اسٹیٹ کے وکیل مارک سیفٹن کے سی (Mark Sefton KC) نے عدالت میں کہا کہ مالک مکان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عمارت کی ازسرنو تعمیر کرکے اسے کسی دوسرے تجارتی استعمال کے لیے تیار کرے۔ ان کے مطابق وکٹری ہاؤس (Victory House) کے بالائی حصوں میں موجود دفاتر پرانے ہو چکے ہیں اور انہیں جدید، ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والی دفتری جگہوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں ریسٹورنٹ کے زیرِ استعمال حصے کو بھی دفاتر میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کا کہنا ہے کہ مجوزہ تعمیراتی کام کے لیے موجودہ کرایہ دار کی جگہ خالی ہونا ضروری ہے اور یہ فیصلہ کسی خاص کھانے یا قومیت کے خلاف نہیں بلکہ عمارت کی بہتری اور انتظامی ذمہ داریوں کے تحت کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبدالرحمٰن کی کامیابی کی تقریر میں عربی الفاظ کے استعمال کا خیر مقدم

ویر سوامی کی بنیاد ۱۹۲۶ء میں ایڈورڈ پامر (Edward Palmer) نے رکھی تھی۔ وہ جنرل ولیم پامر کے پڑپوتے تھے، جو ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل کے سیکریٹری رہ چکے تھے، جبکہ ان کی والدہ مغل شہزادی فیضان النساء بیگم تھیں۔ ریسٹورنٹ نے ایک صدی کے دوران لندن کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل، ہالی ووڈ اداکار مارلن برانڈو اور چارلی چیپلن سمیت کئی معروف شخصیات یہاں کھانا کھا چکی ہیں۔ اس کے باورچیوں کو بکنگھم پیلس میں ملکہ الزبتھ دوم کے لیے دو مرتبہ کھانا تیار کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ اس ریسٹورنٹ کے ساتھ ایک دلچسپ روایت بھی وابستہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں سالن کے ساتھ بیئر پینے کا رواج مقبول بنانے میں ویر سوامی کا کردار رہا۔ ڈنمارک کے شہزادے ایکسل (Prince Axel) جب لندن آتے تو یہاں کھانا کھاتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیے ڈنمارک کی کارلسبرگ بیئر (Carlsberg) کی کھیپ لندن بھجوائی تھی تاکہ اسے ریسٹورنٹ میں ان کے کھانے کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ یوں ہندوستانی سالن اور بیئر کا امتزاج بھی اس ادارے کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ 
ریسٹورنٹ کو بچانے کے لیے مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ اس کے مالکان نے فروری ۲۰۲۶ء میں کنگ چارلس سے اپیل کی تھی کہ وہ کراؤن اسٹیٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس سلسلے میں ایک عرضداشت پر ۲۰؍ ہزار سے زائد افراد کے دستخط حاصل ہوئے، جسے بکنگھم پیلس تک پہنچایا گیا۔ مشہور شیف ریمون بلانک، مشیل رو اور رچرڈ کوریگن سمیت کئی معروف شخصیات نے بھی ریسٹورنٹ کی حمایت کی ہے۔ ریسٹورنٹ کے ڈائریکٹر رنجیت ماتھرانی نے پہلے کہا تھا کہ اگر انہیں دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا تو اس پر ۵۰؍ لاکھ پاؤنڈ تک خرچ آ سکتا ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کی جانب سے ۵؍ لاکھ پاؤنڈ معاوضے اور اپنے پورٹ فولیو میں متبادل جگہ تلاش کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی گئی ہے، لیکن مالکان کے مطابق یہ رقم منتقلی کے ممکنہ اخراجات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ 
اس معاملے میں ایک اہم قانونی پہلو بھی ہے۔ کراؤن اسٹیٹ برطانوی بادشاہ کی ذاتی جائیداد نہیں بلکہ ایک قانونی و تجارتی ادارہ ہے، جو بادشاہ کے نام پر تاجِ برطانیہ کی ملکیت کا انتظام کرتا ہے۔ اس کی آمدنی قومی خزانے میں جاتی ہے اور بادشاہ کو سرکاری گرانٹ کے ذریعے رقم فراہم کی جاتی ہے۔ لہٰذا کنگ چارلس ذاتی طور پر اس تجارتی لیز کے فیصلے کے مالک نہیں ہیں۔ عدالت کو اب یہ طے کرنا ہے کہ آیا کراؤن اسٹیٹ کو عمارت کی تعمیرِ نو کی بنیاد پر ریسٹورنٹ کی نئی لیز روکنے کا قانونی جواز حاصل ہے یا نہیں۔ سماعت آئندہ ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے اور جج اپنا فیصلہ بعد میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK