• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: سفارتی سرگرمیاں تیز، ۴۸؍ گھنٹوں میں ۱۲؍ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

Updated: November 07, 2026, 6:05 PM IST | Tehran

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم روکنے کی کوششوں کے درمیان ۴۸؍ گھنٹوں میں ۱۲؍ ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ تہران نے قومی خودمختاری کے احترام، حملوں اور دھمکیوں کے خاتمے اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر علاقائی سلامتی کا نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔

Abbas Araghchi. Photo: INN
عباس عراقچی۔ تصویر: آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی تعطل کے دوران ایران نے علاقائی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araghchi) نے سنیچر ۷؍ نومبر کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ۴۸؍  گھنٹوں کے دوران ۱۲؍ ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے۔ ان گفتگوؤں میں خطے کی تازہ صورتِ حال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، قومی خودمختاری کے تحفظ اور ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عراقچی کے مطابق انہوں نے ان رابطوں کے دوران تہران کا بنیادی موقف واضح کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کی قومی خودمختاری کا احترام کیا جائے، جارحیت اور دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہو، بیرونی طاقتوں کی نقصان دہ مداخلت سے گریز کیا جائے اور خطے میں عدم تحفظ کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی سفارتی سرگرمیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے انتظامات خود تشکیل دینے چاہئیں اور اس عمل میں خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبدالرحمٰن کی کامیابی کی تقریر میں عربی الفاظ کے استعمال کا خیر مقدم

ایرانی وزیر خارجہ نے جن ۱۲؍ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا، ان میں ترکی، پاکستان، قطر، عمان، مصر، اردن، جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، تیونس اور عراق شامل ہیں۔ ان ممالک میں خلیج کے اہم عرب ممالک کے علاوہ پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے علاقائی اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔ رابطوں کی یہ وسعت ظاہر کرتی ہے کہ تہران موجودہ کشیدگی کو صرف واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ تنازع کے بجائے پورے خطے کی سلامتی سے متعلق معاملہ قرار دے رہا ہے۔ یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ واشنگٹن نے جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران سے رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اہم شرط قرار دیا ہے۔ دوسری جانب تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے اور اسے تیل برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہنے کے باعث وسیع تر سیاسی سمجھوتے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ 

تنازع کا پس منظر ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں سے جڑا ہے۔ اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں۔ اپریل میں جنگ بندی طے پائی، تاہم اس کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ جولائی میں سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی محاذ آرائی دوبارہ شروع ہوگئی۔ اس کے بعد سے خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور کسی نئے بڑے تصادم کو روکنے کے لیے مختلف ممالک سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سفارتی کوشش میں عمان اور قطر کا کردار بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور پیغامات کی ترسیل میں مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی صورتِ حال بھی مذاکرات کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور سمندری آمدورفت سے متعلق اختلافات نے اس گزرگاہ کی سلامتی کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ۵؍ نومبر کو عمانی اور ایرانی وزرائے خارجہ نے بھی بحری راستوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے اور دوبارہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے عملی انتظامات کی ضرورت پر گفتگو کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عہدہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی

۷؍ نومبر کو سامنے آنے والی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ قطر کی ثالثی میں ایک نئی تجویز پر بھی بات چیت جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے جوہری مراکز تک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کی رسائی کے بدلے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کرنے جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں۔ تاہم اس تجویز پر حتمی اتفاق نہیں ہوا اور فریقین کے درمیان کئی بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ عراقچی کے ۱۲؍ ممالک سے رابطوں کو اسی وسیع سفارتی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے مشترکہ نظام تشکیل دیں اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کریں۔ دوسری جانب خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ جاری کشیدگی ان کی سرزمین، سمندری راستوں، توانائی کی تنصیبات اور تجارت کو متاثر نہ کرے۔ فی الحال ان ٹیلی فونک رابطوں کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ فوجی کشیدگی کے باوجود خطے میں سفارت کاری کے راستے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK