• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: مسلم وکالتی گروپ کی دہشت گرد قرار دینے کے قانون کے بعد کارروائیاں معطل

Updated: November 07, 2026, 8:01 PM IST | Florida

امریکہ کے سب سے بڑے مسلم وکالتی گروپ نے دہشت گرد قرار دینے کے قانون پر فلوریڈا میں کارروائیاں معطل کر دیں، اس قانون کے تحت ریاستی عہدیداروں کو گروپوں کو ’’دہشت گرد تنظیمیں‘‘قرار دینے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون آزادی اظہار کو دباتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مسلم وکالتی گروپ کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (CAIR )نے فلوریڈا میں ایک قانون کے نفاذ کے بعد اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں جس نے ریاستی عہدیداروں کو گروپوں کو ’’دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دینے کا اختیار دیا۔اس سال کے اوائل میں، ریپبلکن فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے ایک قانون پر دستخط کیے جس میں انہیں اور دیگر ریاستی عہدیداروں کو گروپوں کو ’’دہشت گرد تنظیمیں‘‘قرار دینے اور ان کی حمایت کرنے والے طلبہ کو نکالنے کا اختیار دیا گیا۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون آزادی اظہار کو دباتا ہے۔ایک وفاقی جج نے مسلم شہری حقوق کے گروپ کے فلوریڈا عہدیداروں کی ’’دہشت گرد‘‘قرار دینے کو واپس لینے کی CAIR کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ CAIR نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔جج نے کہا کہ اگرچہ فلوریڈا کا اقدام نیا - اور شاید بے مثال تھا، لیکن CAIR نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ قرار دینا مجرمانہ سزا کی ایک شکل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عبدالرحمٰن کی کامیابی کی تقریر میں عربی الفاظ کے استعمال کا خیر مقدم

واضح رہے کہ CAIR مسلم امریکیوں کے خلاف نفرت کو دستاویزی شکل دیتا ہے، اور یہ اسلاموفوبیا میں اضافے کا الزام امیگریشن اور فلسطین کے حامی مظاہروں پر ریپبلکن کی قیادت میں وفاقی کریک ڈاؤن کو ٹھہراتا ہے۔CAIR-فلوریڈا کی ویب سائٹ پر ایک نوٹ میں کہا گیا، ’’ہم نے فلوریڈا میں اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں کیونکہ گورنر ڈی سینٹس اور دیگر ریاستی عہدیداروں نے ریاست کے نئے ،’’ڈومیسٹک ٹیررسٹ آرگنائزیشن‘‘ قوانین کو ہمارے خلاف بے بنیاد اور غیر آئینی طور پر نافذ کیا ہے۔‘‘
بعد ازاں اس فیصلے اور فلوریڈا میں CAIR کی کارروائیوں کی معطلی کا ڈی سینٹس اور فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اتھمیئر نے خیر مقدم کیا۔امریکی حقوق کے حامیوں نے مسلمانوں کی طرف ہدایت کردہ بیان بازی اور اقدامات کے خلاف ، خاص طور پر وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران ریپبلکن کی طرف سے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے بالآخر امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو دی اور ووٹ میں ناکامیاں ہوئیں۔واضح رہے کہ ڈی سینٹس کی طرف سے اپریل میں دستخط شدہ قانون نے فلوریڈا کے ڈومیسٹک سیکیورٹی کے سربراہ، گورنر اور کابینہ کو کسی بھی تنظیم کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دینے کا اختیار دیا جسے وہ انتہا پسندانہ کارروائیوں میں ملوث سمجھتے ہیں۔اس طرح کی نامزدگی کے بعد، قانون سازی کے مطابق، گروپ کو زبردستی تحلیل کیا جا سکتا ہے اور ریاستی فنڈنگ پر منجمد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر طلبہ نے کسی ملکی یا غیر ملکی ’’دہشت گرد تنظیم‘‘کو ’’فروغ‘‘ دیا تو انہیں ان کے ادارے سے نکال دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ۹؍ بڑے ایریناز نے فلسطین ٹور کےفنڈ ریزنگ شوز کی میزبانی سےانکار کردیا: امریکی ریپر میکلمور

تاہم PEN America اور امریکن سول لبرٹیز یونین نے قانون کی مذمت کی۔ PEN America نے کہا کہ یہ ’’افراد پر بے جادباؤ ڈال کر آزادی اظہار کو دبا سکتا ہے تاکہ وہ بعض نقطہ نظر کے ساتھ بات کرنے، منظم ہونے یا مخالفت کرنے سے گریز کریں۔‘‘جبکہ ڈی سینٹس نے اسے انتہا پسندی سے نمٹنے اور تعلیمی نظام میں جوابدہی کا فریم ورک قرار دیا۔ریپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کچھ ریپبلکن کی زیر قیادت ریاستوں نے بائیں بازو کی تنظیموں اور فلسطین کے حامی گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے جنہیں وہ انتہا پسند، سام دشمن اور امریکہ مخالف قرار دیتے ہیں۔ان گروپوں کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن آزادی اظہار اور قانونی عمل کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ریپبلکن عہدیدار فلسطین کے حامی وکالت کو انتہا پسندی کی حمایت کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور امریکی اتحادی اسرائیل کے غزہ پر حملے اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کی تنقید کو سام دشمنی کے متردف قرار دیتے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں، ڈی سینٹس نے CAIR کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دینے والے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ ایک جج نے بالآخر اس حکم کو روک دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK