• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آندھرا پردیش: کم عمر بچوں کے لیے آسٹریلیا طرز کی سوشل میڈیا پابندی زیرغور

Updated: January 23, 2026, 8:04 PM IST | Hyderabad

آندھرا پردیش کی حکومت،سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے آسٹریلیا طرز کی سوشل میڈیا پابندی پر غور کر رہی ہے، یہ تجویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، پابندی کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ بچوں کو ذہنی دباؤ اور آن لائن نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک مثبت قدم ہوگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آندھراپردیش حکومت سوشل میڈیا پر آسٹریلیا کی طرز پر سولہ سال سے کم عمر بچوں کیلئے پابندی پر غور کررہی ہے۔ یہ پابندی سولہ سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرے گی۔یہ  تجویز ابھی قانون کا درجہ اختیار نہیں کر سکی ہے اور فی الحال ابتدائی بحث و مسودہ سازی کے مرحلے میں ہے۔آندھراپردیش کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و انسانی وسائل نارا لوکیش نے اس خیال کا اظہار سوئٹزر لینڈ کے ڈاؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے اجلاس میں شرکت کے دوران کیا۔انہوں نے بلومبرگ کو بتایا، ’’بطور ریاست ہم آسٹریلیا کے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے متعلق قانون کا جائزہ لے رہے ہیں، اور میرے خیال میں ہمیں ایک مضبوط قانونی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ وزیر نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ’’ ایک مخصوص عمر سے کم کے نوجوان یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ہندوستان میں نابالغوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے پہلے سے ہی والدین کے کنٹرولز موجود ہیں۔ وفاقی حکومت نے سماجی میڈیا پر وسیع پیمانے پر پابندی کے بارے میں ابھی تک کوئی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔تاہم، نگرانی میں تکنیکی حدود ہیں، جیسے آن لائن عمر کی تصدیق کس طرح ہوگی، کیا پلیٹ فارم کی مدد کے بغیر ریاستی سطح کے قوانین نافذ کیے جا سکتے ہیں یا کیا پلیٹ فارم اس قسم کے اقدامات میں مدد فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ویزا کریک ڈاؤن: امریکی یونیورسٹیوں میں ہندوستانی طلبہ کے داخلوں میں۷۵؍ فیصد کمی

 دراصل آسٹریلیا نے قومی سطح پر ایسی پابندی نافذ کی ہے جو سولہ سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے، اور ٹیک کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کرنے یا جرمانے کی صورت میں احکامات کا پابند بناتی ہے۔بعد ازاں پابندی کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ بچوں کو ذہنی دباؤ اور آن لائن نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک مثبت قدم ہوگا۔ ٹک ٹاک، انسٹا گرام، یوٹیوب، ایکس اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز اپنے الگورتھم ڈیزائن کے تحت، معاشی مفاد کے سبب فحش، پرتشدد اورغیر معیاری مواد کو ترجیح دیتے ہیں اور اسے معمول بناتے ہیں۔ اس کا نابالغوں پر زبردست منفی اثر پڑتا ہے جو حساس فطرت کے سبب جلد متاثر ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کودوست  سمجھتے ہیں اور اسی کے گرد اپنی حقیقی اور خیالی پہچان بناتے ہیں۔ تاہم محققین کے مطابق اس کا بچوں اور یہاں تک کہ بالغوں کی خودشناسی اور جسمانی تصور پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK