• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویزا کریک ڈاؤن: امریکی یونیورسٹیوں میں ہندوستانی طلبہ کے داخلوں میں۷۵؍ فیصد کمی

Updated: January 23, 2026, 3:13 PM IST | New Delhi

امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے کئے گئے ویزا کریک ڈائون کے سبب امریکی یونیورسٹیوں میں ہندوستانی طلبہ کے داخلوں میں۷۵؍ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، بی آئی ٹی ایس پلانی کے وائس چانسلر وی رام گوپال راؤ نے کہا کہ داخلوں میں تیز گراوٹ کو عارضی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے دور کے پہلے سال میں امریکی یونیورسٹیوں میں ہندوستانی طلباء کی داخلوں  میں تقریباً۷۵؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ مختلف تعلیمی مشیروں کی رپورٹ کے مطابق، اس تیز گراوٹ کی بنیادی وجوہات ویزا جانچ کی سختی، انٹرویو  کے مواقع میں کمی، اور بڑے پیمانے پر ویزا منسوخی ہیں۔ اس صورت حال پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، بی آئی ٹی ایس پلانی کے وائس چانسلر وی رام گوپال راؤ نے کہا کہ داخلوں میں تیز گراوٹ کو عارضی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: ویشنو دیوی کالج طلبہ کی نئی کاؤنسلنگ نہیں کرسکتا: داخلہ امتحان بورڈ

راؤ نے کہا کہ امریکہ میں تارکین وطن اور ہندوستانیوں کے خلاف بڑھتی دشمنی کی سماجی اور معاشی وجوہات ہیں۔ یہ رجحان آگے بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔راؤ نے زور دیا کہ ایک ساختی اشارہ ہے جو ہندوستان سے مربوط اور طویل مدتی پالیسی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔ امریکہ میں ہندوستانیوں اور تارکین وطن کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت کے اثرات طلباء تک محدود نہیں ہیں۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام، جو روایتی طور پر ہندوستانی پیشہ ور افراد کو امریکہ میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے، بھی سخت جانچ پڑتال کا سامنا کر رہا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے فیس میں کمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ رائو کے مطابق یہ صورت حال ان ہندوستانی طلباء کے لیے فوری مشکلات پیدا کرتی ہے جو امریکہ میں پڑھنا یا کام کرنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے ایک اہم موقع بھی پیدا کرتی ہے۔ ’’اس موقع سے ہندوستان اعلیٰ صلاحیت  کے حامل افراد کو برقرار رکھ سکتا ہے اور اپنے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ ذہنی انخلا کے بجائے اعلی ذہانت کے حصول کا بھی موقع ہے ، تاہم اس سے زیادہ فائدہ اٹھانا آسان نہیں ہوگا۔ دریں اثناء ہندوستان کو کچھ سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں اعلیٰ اداروں میں محدود نشستیں اور بہت سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار اور عالمی مقام میں عدم مساوات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: داؤس میں ہندوستانی ریاستوں کی ہندوستانی کمپنیوں کےساتھ معاہددوں پرشدید تنقید

بعد ازاں تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ جانے والے ہندوستانی طلباء میں گراوٹ ہندوستان کو یونیورٹیوں کے توسیع، تحقیق کی فنڈنگ میں اضافہ، بہتر فیکلٹی کی بھرتی، اور عالمی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کو تیز کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ بڑی اصلاحات کے بغیر، وہ ہونہار طلباء جو واپس رہ جاتے ہیں یا لوٹتے ہیں، ایسے ادارے نہیں پا سکتے جو ان کی مہارتوں کو مکمل طور پر استعمال کر سکیں۔ وی رام گوپال راؤ، کے مطابق جنوری ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، دسمبر۲۰۲۵ء تک، تقریباً۸؍ ہزار طالب علم ویزا منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ، مختلف زمروں میں تقریباً ایک لاکھ ویزا منسوخ کیے گئے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس پیمانے پر ملک بدری کی سطح کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK