شہر اور مضافات میں ہاکروں کے مسائل او ر ان کی شکایتوں پر شنوائی کرنے اور اس کے حل کیلئے از خود شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت نے کمیٹیاں بنانے کا یقین دلایا تھا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 10:39 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
شہر اور مضافات میں ہاکروں کے مسائل او ر ان کی شکایتوں پر شنوائی کرنے اور اس کے حل کیلئے از خود شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت نے کمیٹیاں بنانے کا یقین دلایا تھا۔
شہر اور مضافات میں ہاکروں کے مسائل او ر ان کی شکایتوں پر شنوائی کرنے اور اس کے حل کیلئے از خود شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت نے کمیٹیاں بنانے کا یقین دلایا تھا ۔ مذکورہ معاملہ میں داخل کردہ عرضداشت پر ہونے والی سماعت کے دوران جب کورٹ کو شہری اور ریاستی سطح پر محض ۹؍ کمیٹیاں بنانے اور مزید کمیٹیاں بنانے کا معاملہ معلق ہونے کی اطلاع دی گئی تو کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹیاں بنانے کی تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے سماعت کو ملتوی کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کے’ گونگی گڑیا‘ والے تبصرے کو مہایوتی کی جانب سے طول
شہر و مضافات اور اطراف کے شہروں کے علاوہ ریاستی سطح پر ہاکروں کے مسائل اور ان کی شکایتوںپر شنوائی کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لئےبی ایم سی کے علاوہ دیگر شہری انتظامیہ اور حکومت نے کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہامی بھری تھی ۔ تاہم جب مذکورہ معاملہ میں ہونے والی شنوائی کے دوران جسٹس بھارتی ڈانگرے اور منجوشا دیش پانڈے کو بتایا گیا کہ ’’اس ضمن میںاربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کلکٹرز کو ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو گورنمنٹ کی منظور شدہ قرارداد کے ذریعہ تین ماہ میں شہری اور ریاستی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کا فرمان جاری کیا تھا اور۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء تک تمام کمیٹیوں کی تشکیل مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ سڑکوں پر ٹھیلہ لگانے والوں کے مسائل اور ان کی شکایتوں کو سنا جاسکے اور اس کا حل تلاش کیا جاسکے لیکن اب تک صرف ۹؍ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔‘‘ ا س اطلاع پر کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمیٹیاں تشکیل دینے سے متعلق فراہم کئے گئے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری افسران نے اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کو کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ کمیٹیوں کی تشکیل اس لئے ضروری ہے تاکہ سڑکوں پر ٹھیلہ لگانے والے ہاکروں کو انصاف مل سکے ۔‘‘