Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’الیکشن کمشنر کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری‘‘

Updated: May 08, 2026, 10:08 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ میں وجے ہنساریہ نے آئینی التزامات کا حوالہ دیا، سعدان فراست اور پرشانت بھوشن نے نشاندہی کی کہ تقرری کا متنازع قانون یکطرفہ طور پر پاس کرایا گیا۔

India`s Chief Election Commissioner Gianish Kumar. Photo: INN
ہندوستان کی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ تصویر: آئی این این

نئی دہلی (آئی این این):  الیکشن کمشنر کی تقرری کے متنازع قانون کو چیلنج کرنےوالی پٹیشن پر سپریم کورٹ  میں  لگاتار دوسرے دن دلائل پیش کرتے ہوئے  عدالت کو آگاہ کیاگیا کہ آئین کی رو سے الیکشن کمشنروں   کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری ہے اور یہی ’’انوپ برنوال بنام حکومت ہند‘‘ کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت کی مرکزی روح تھی۔ یاد رہے کہ اسی کیس کافیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت کو الیکشن کمشنر کی تقرری کا قانون بنانے کی ہدایت دی تھی اور جب تک قانون نہیں  بنتا تب تک یہ نظم کیاتھا کہ الیکشن کمشنر کی تقرری سہ رکنی کمیٹی کریگی جس میں وزیراعظم ، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا ہوں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: وِجے کو حکومت سازی کی دعوت نہ دینے پر برہمی

مودی حکومت نے  قانون سازی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جو قانون بنایا اس میں الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے سہ رکنی کمیٹی کا ہی نظم رکھا مگر چیف جسٹس کی جگہ وزیراعظم کےنامزد کردہ کابینی وزیر کو دیدی۔اس طرح  اب الیکشن کمیشن کی تقرری پوری طرح  سے حکومت کے کنٹرول میں آگئی ہے۔اس قانون کو چیلنج کرنے کیلئے ایک سے زائد پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔  بدھ کو سپریم کورٹ نے اس پر شنوائی شروع کردی اور جمعرات کو لگاتار دوسرے دن سماعت ہوئی۔  عدالت نے آئندہ ہفتے بھی سماعت جاری رکھنے کافیصلہ کیا ہے۔ 

جمعرات کو سپریم کورٹ نے قانون کو چیلنج کرنے کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ’’ انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا ‘‘ کیس کے فیصلے کا مقصد صرف اس وقت قانون کی عدم موجودگی کے خلا کو پُر کرنا تھا  اور اس فیصلے میں حکومت کو کسی مخصوص طرز کا قانون بنانے کی ہدایت نہیں دی گئی تھی ۔ جسٹس دیپانکر دتہ نےکانگریس  لیڈر  جیا ٹھاکر کے وکیل ،سینئر ایڈوکیٹ وجے ہنساریہ کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ انوپ برنوال کیس کے فیصلے کی خلاف ورزی کو قانون کو چیلنج کرنے کی بنیاد نہ بنائیں کیوں کہ وہ عارضی نظم تھا۔   اس پر ایڈوکیٹ ہنساریہ نے جواب دیا کہ قانون کو چیلنج مذکورہ  فیصلے میں بیان کئے  گئے آئینی اصولوں پر مبنی ہے، خاص طور پر  آزادا ور خود مختار  الیکشن کمیشن کی ضرورت پر۔ انہوں نے دلیل دی کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کیلئے  ایسی ادارہ جاتی خودمختاری ضروری ہے جو انتظامیہ کے کنٹرول سے آزاد ہو اورآئین میں بھی اس کا نظم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور ریت مافیا: نائب تحصیلدار جے سی بی پر لٹکا رہا اور ڈرائیور اسے دوڑاتا رہا

مقدمہ کی سماعت جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ کررہی ہے۔ جسٹس دتہ نے عرضی میں دی گئی تفصیلات پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متنازع قانون کی دفعات۷؍ اور۸؍ کی غیر آئینی حیثیت کو چیلنج تو کیاگیا ہے مگر اسکے دلائل موجود نہیں ہیں۔ہنساریہ نے کہا کہ ’’ہم اس قانون کو اس بنیاد پر چیلنج کر ر ہے ہیں کہ عدالت نے انوپ برنوال کیس میں جس آئینی اصول کو بیان ان کے مطابق ایک آزاد الیکشن کمیشن آئینی ضرورت ہے۔‘‘مداخلت کار کے طور پر داخل کی گئی ایک پٹیشن کی پیروی کیلئے عدالت میں سینئر وکیل سعدان فراست موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت یہ قانون منظور کیا گیا  اس وقت بڑی تعداد میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ معطل تھے اس لئے مناسب بحث نہیں ہو سکی اور یوں ہی یہ قانون پاس کرلیاگیا۔ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس( اے ڈی آر) نامی تنظیم کی پیروی معروف وکیل پرشانت بھوشن کررہے تھے۔انہوں نے بھی کہا کہ عرضی میں یہ ذکر موجود ہے کہ قانون بغیر بامعنی بحث اور محض آواز کے ووٹ سے منظور کیا گیا ہے۔ بہرحال جسٹس  دیپانکر دتہ نے اے ڈی آر کی عرضی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اتنے اہم معاملے میں ایسی کوتاہیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔سماعت کے دوران ہنساریا نے زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن کی آزادی اتنی ہی اہم ہے جتنی عدلیہ کی آزادی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی تقرریوں سے متعلق جو اصول ہیں، وہی الیکشن کمیشن پر بھی لاگو ہونے چاہئیں۔ طویل بحث میں انہوں نے موجودہ الیکشن کمشنروں کی تقرری میں حکومت کی مبینہ من مانیوں کو بھی بیان کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK