Inquilab Logo Happiest Places to Work

وندے ماترم لازمی کرنا مذہبی آزادی پر حملہ، حکومت فیصلہ واپس لے: پرسنل لاء بورڈ

Updated: May 08, 2026, 10:24 AM IST | New Delhi

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے جن گن من کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کے تمام۶؍اشلوک کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

All India Muslim Personal Law Board. Photo: INN
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ۔ تصویر: آئی این این

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے جن گن من کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کے تمام۶؍اشلوک کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس اقدام کو آئین کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور دستور ساز اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’الیکشن کمشنر کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری‘‘

بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کی مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی خاص مذہبی تصور یا عقیدے کو زبردستی تمام شہریوں پر نافذ نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق وندے ماترم کے کئی اشلوک میں دیوی درگا سمیت دیگر دیوی دیوتاؤں کی تعریف اور عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے، جو اسلام کے نظریۂ توحید کے سراسر خلاف ہے۔ڈاکٹر الیاس نے زور دیکر  کہا کہ اسلام صرف ایک اللہ کی عبادت کی اجازت دیتا ہے اور شرک کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کرتا۔ ایسے میں مسلمانوں کو وندے ماترم کے تمام اشلوک پڑھنے پر مجبور کرنا ان کے مذہبی عقیدے میں مداخلت  کرنے کے  مترادف ہوگا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK