امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ہونے والی تازہ جھڑپوں نے ایک ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت بیانات جاری کئے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 10:29 AM IST | Tehran
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ہونے والی تازہ جھڑپوں نے ایک ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت بیانات جاری کئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کی رات فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے سنگین امتحان ثابت ہوا۔ ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو نشانہ بنا کر اور شہری علاقوں پر حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جبکہ امریکہ کا کہنا تھا کہ اس نے یہ کارروائی ایران کی جانب سے حملوں کے جواب میں کی۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اُن مقامات کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے ذمہ دار تھے، جنہیں اس نے تہران کی’بلا اشتعال دشمنی‘ قرار دیا۔ ایران کے سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ کئی گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیروں اور ساحلی شہروں میں صورتحال اب معمول پر آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترک وطن بحران نہیں، منظم حل میں دنیا کی اجتماعی ناکامی اصل بحران ہے: غطریس
ان جھڑپوں نے اُس نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا جو گزشتہ ایک ماہ سے بڑی حد تک برقرار تھی۔ تاہم، امریکی صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ حملوں کے باوجود جنگ بندی قائم ہے، اور انہوں نے ان حملوں کواے بی سی نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ’ہلکی سی چپت‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں ریفلیکٹنگ پول کے دورے کے دوران صحافیوں سے کہا:’’انہوں نے آج ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ ہم نے انہیں تباہ کر دیا۔ انہوں نے صرف معمولی حرکت کی، اور میں اسے معمولی ہی سمجھتا ہوں۔ ‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورتحال کے بعد مذاکراتی حل کی امیدیں کہاں کھڑی ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ شاید نہ ہو، لیکن کسی بھی دن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’میرا ماننا ہے کہ وہ اس معاہدے کو مجھ سے زیادہ چاہتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ جنگ میں شریک فوجیوں کی دماغی صحت سے متعلق ڈیٹا چھپا رہا ہے: ہاریٹز
جمعرات کی شام امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) نے ایک بیان میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:’’ایرانی افواج نے متعدد میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اُس وقت حملے کئےجب USS Truxtun، USS Rafael Peralta اور USS Mason بین الاقوامی بحری راستے سے گزر رہے تھے۔ کسی امریکی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔ ‘‘سینٹکام نے کہا کہ اس کی افواج نے آنے والے خطرات کو ختم کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو امریکی افواج پر حملوں کی ذمہ دار تھیں، جن میں میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور انٹیلی جنس نگرانی کے مراکز شامل تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا:’’سینٹکام کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن امریکی افواج کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا: اسرائیلی حراست میں موجود کارکن تھیاگو اپنی والدہ کی موت سے بے خبر
دوسری جانب ایران کی فوج نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایک فوجی ترجمان نے کہا:’’جارح، دہشت گرد اور بحری قزاق امریکی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ‘‘ترجمان کے مطابق امریکہ نے بندر خمیر، سیریک اور جزیرہ قشم کے ساحلی شہری علاقوں پر فضائی حملے کئے، اور یہ کارروائیاں کچھ علاقائی ممالک کے تعاون سے کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے جواباً امریکی جنگی جہازوں پر حملے کئے اورممکنہ طور پر انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔ امریکہ ایران پر آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے دباؤ ڈال رہا تھا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رہا تھا۔ پیر کو امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے چھ ایرانی چھوٹی کشتیوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کر دیا، جب ٹرمپ نے جنگی جہازوں کو آبنائے سے پھنسے ہوئے آئل ٹینکروں کی رہنمائی کے لیے بھیجا تھا۔ اس مہم کو انہوں نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کا نام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۷؍ سال بعد جیفری ایپسٹین کا سوسائڈ نوٹ جاری
جمعرات کی تازہ جھڑپیں اُس وقت سامنے آئیں جب چند گھنٹے قبل پاکستان کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے ایک عارضی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اسلام آباد کے حکام کے مطابق ایک بنیادی نوعیت کا ’’عبوری‘‘معاہدہ اس ہفتے کے اختتام تک طے پا سکتا ہے اور تہران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم، پاکستان اور ٹرمپ ماضی میں بھی بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پیش رفت قریب ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی کیلئے کئی ہفتوں کی کوششوں کے باوجود کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ جمعرات کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے امریکی جنگی جہازوں کے عملے کی تعریف کی کہ انہوں نے شدید حملوں کے باوجود بحری راستہ عبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جبکہ ایرانی حملہ آور مکمل طور پر تباہ کر دیئےگئے، جن میں متعدد چھوٹی کشتیاں، میزائل اور ڈرون شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے۲۲۸؍ فوجی ٹھکانےتباہ کئے، امریکی ڈیٹا کے مقابلے کہیں زیادہ: واشنگٹن پوسٹ
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران ایک معمول کا ملک نہیں اور اس کے ’’پاگل رہنما‘‘ اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہو تو اسے استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ مستقبل میں زیادہ شدید ردعمل دے سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس میں پاکستان کی آخری لمحے کی سفارتی مداخلت کے بعد آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنا بھی شامل تھا۔