Inquilab Logo Happiest Places to Work

یتی نرسنگھانند کی ’غزہ نسل کشی اور ہندوستانی مسلمانوں‘ کے بیان پر انیل یادو کی حمایت

Updated: June 27, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi

متنازع ہندوتوا مذہبی لیڈر یتی نرسنگھانند سرسوتی ایک بار پھر اپنے تازہ خطاب کے باعث خبروں میں ہے۔ غازی آباد کے داسنا دیوی مندر میں منعقدہ ایک ہندو پنچایت سے منسوب وائرل ویڈیو میں وہ ایک ایسے ہندوتوا لیڈر کی حمایت کرتا نظر آیا جس کے حالیہ بیانات پر ملک بھر میں شدید تنقید اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے بعد نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کے مطالبات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

Extremist Hindu religious leader Yeti Narsinghanand Saraswati. Photo: INN
انتہا پسند ہندو مذہبی لیڈر یتی نرسنگھانند سرسوتی۔ تصویر: آئی این این

اسلام مخالف متعدد بیانات اور سابقہ متنازع تقاریر کے باعث خبروں میں رہنے والے یتی نرسنگھانند سرسوتی نے ایک حالیہ عوامی سمیلن میں ہندوتوا شخصیت انیل یادو کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کے حالیہ بیانات پر ملک بھر میں شدید تنقید اور قانونی کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ دائیں بازو کے ہندوتوا حلقوں کی نمایاں اور متنازع شخصیت نرسنگھانند، اتر پردیش کے غازی آباد میں واقع داسنا دیوی مندر میں منعقدہ ایک ہندو پنچایت سے خطاب کر رہا تھا۔ اپنی تقریر کے دوران اس نے غزہ میں جاری جنگ کا حوالہ بھی دیا اور اسے ہندوستان میں مسلمانوں سے متعلق اپنے مؤقف کے تناظر میں پیش کیا۔ سمیلن کے متعدد ویڈیوز، جو اب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے ہیں، میں نرسنگھانند انیل یادو کی حمایت کرتا نظر آیا۔ یادو کے حالیہ بیانات کو متعدد حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے اور انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنی تقریر میں نرسنگھانند نے کہا کہ انیل یادو نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور اس کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا کیا جانا چاہئے۔ جس کے بعد اس کی تقریر پر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔ نرسنگھانند نے مزید کہا کہ اگر انیل یادو کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کا آغاز ان سے کیا جانا چاہیے۔ اشاعت کے وقت تک حکام کی جانب سے اس وائرل ویڈیو یا حالیہ تقریر پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، جبکہ اس سمیلن کے حوالے سے کسی نئی پولیس کارروائی کی بھی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ 
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اس سے قبل انیل یادو کے متنازع بیانات پر مختلف سماجی اور شہری حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور نفرت انگیز تقریر سے متعلق قوانین کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سمیلن کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے نرسنگھانند کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کسی ایسے شخص کی عوامی حمایت، جس کے بیانات کو بڑے پیمانے پر اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہو، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ کئی صارفین نے متعلقہ حکام سے معاملے کی تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: رام مندر کے ٹرسٹی چمپت رائے مستعفی، ڈرائیور گرفتار

ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نفرت انگیز زبان معاشرے میں تقسیم اور دشمنی کو فروغ دیتی ہے، جبکہ دیگر صارفین نے بھی مطالبہ کیا کہ اس طرح کی تقاریر کا قانونی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر عوامی اجتماعات اور مذہبی پروگراموں میں استعمال ہونے والی فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز زبان پر بحث کو ہوا دے دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذہبی برادری کے خلاف نفرت یا تشدد کو فروغ دینے والے بیانات سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ایسے معاملات میں قانون کا یکساں نفاذ ضروری ہے۔ متعدد افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ انیل یادو کے سابقہ بیانات کے ساتھ ساتھ نرسنگھانند کی تازہ تقریر کا بھی جائزہ لیا جائے اور اگر نفرت انگیز تقریر یا اشتعال انگیزی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئے تو مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔
یتی نرسنگھانند اس سے قبل بھی اسلام مخالف بیانات، خواتین سے متعلق متنازع ریمارکس اور نفرت انگیز تقاریر کے متعدد مقدمات میں خبروں کا حصہ رہ چکا ہے۔ داسنا دیوی مندر بھی ماضی میں غیر ہندو افراد کے داخلے سے متعلق پالیسی اور مختلف متنازع بیانات کے باعث سرخیوں میں رہا ہے۔ اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں اور ماضی میں ہریدوار دھرم سنسد کیس سمیت متعدد معاملات میں قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK