Inquilab Logo Happiest Places to Work

انقرہ اسلامی دنیا میں اتحاد مضبوط اور اختلافات کم کرنے کیلئے کوشاں ہے: اردگان

Updated: August 29, 2026, 12:07 PM IST | Ankara

ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسلامی دنیا میں اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ اختلافات کم کرنے اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون و اتحاد مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور انسانی اقدار و عالمی اصولوں کو نظرانداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

Recep Tayyip Erdogan speaking. Photo: X
رجب طیب اردگان خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ انقرہ اتحاد کو مضبوط بنانے اور نہ صرف اپنے درمیان بلکہ پوری اسلامی دنیا میں اختلافات کم کرنے کیلئے کام کر رہا ہے۔ اردگان نے جمعہ کو استنبول میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر منعقدہ میلاد النبیﷺ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اتحاد میں خیر و برکت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے درمیان اور اسلامی دنیا میں اتحاد مضبوط کرنے اور اختلافات کم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد ۶۰۰؍ سے تجاوز، ہزاروں افراد لاپتہ

ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ وہ مسلمان، جنہوں نے صدیوں تک تاریخ کی تشکیل اور دنیا میں نظم و استحکام قائم کرنے میں کردار ادا کیا، دوبارہ ’’دیوار کی اینٹوں کی طرح‘‘ متحد ہو جائیں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے حقوق کے دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے قیام کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ اردگان نے مزید کہا، ’’ہم نیکی اور بدی کے درمیان ایک تاریخی کشمکش سے گزر رہے ہیں اور ان شاء اللہ نیکی غالب آئے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ۴؍ سالہ فلسطینی بچی کٹے پاؤں کا درد سہتے ہوئے دوبارہ کھیلنے اور دوڑنے کے خواب دیکھ رہی ہے

اردگان نے خبردار کیا کہ ’’ریڈیکل، قابض اور نسل کش نظریے، جسے صہیونیت کہا جاتا ہے‘‘ سے نہ صرف اس کے ہمسایوں کے امن کو خطرہ ہے بلکہ یہ ان تمام افراد کو بھی نشانہ بناتا ہے جو انسانی اقدار کا دفاع کرتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ دنیا اسرائیل کے ’’نسل کشی کے نیٹ ورک کی ان غیر قانونی پالیسیوں‘‘ کے خلاف مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے، جو قوانین، اصولوں، اقدار اور حدود کو نظر انداز کرتی ہیں۔ اردگان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی ’’جنگ کے جنون میں مبتلا حکومت‘‘ اپنے پڑوسی ممالک سے شروع کرتے ہوئے پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اشتعال انگیزی کا سہارا لے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK