Updated: August 28, 2026, 10:01 PM IST
| Gaza
خیمے کے اندر وقت گزارنے پر مجبور جملات اکثر اپنے والد کے فون پر اپنی پرانی تصاویر دیکھتی ہے اور اس تصویر پر رُک جاتی ہے جس میں زخمی ہونے سے پہلے اس کی دونوں ٹانگیں صحیح سلامت تھیں۔ اس نے بار بار اپنی والدہ سے کہا ہے کہ وہ ”اس کی ٹانگ واپس دلائیں“ تاکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کھیل سکے۔ وہ ابھی تک پوری طرح یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ نقصان مستقل ہے۔
محصور فلسطینی علاقے غزہ میں ایک بے گھر خیمے کے اندر اپنی گڑیا کے پاس بیٹھی چار سالہ جملات دبان اپنے لئے ایک مصنوعی ٹانگ کی منتظر ہے، جو اسے دوبارہ چلنے، کھیلنے اور دوڑنے کے قابل بنا سکے۔ رواں سال مئی میں ایک قریبی خیمے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں اسے اپنی بائیں ٹانگ گنوانی پڑی۔ اس حادثے نے اسے ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے جہاں معمولی حرکت کیلئے بھی اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
شمالی غزہ کے علاقے بیت لہیا میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والا یہ خاندان تب سے ایک خیمے میں رہ رہا ہے۔ جملات کی والدہ رشا اسے گود میں اٹھاتی ہیں، اس کے بالوں میں کنگھی کرتی ہیں اور حرکت کرنے میں اس کی مدد کرتی ہیں۔ جملات نے تب سے اپنے ہاتھوں کے سہارے ریت پر خود کو گھسیٹنا سیکھ لیا ہے اور کبھی کبھار خیمے کے بانس کو پکڑ کر خود کو کھڑا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ زخمی ہونے سے پہلے جملات ”انتہائی متحرک بچی تھی جسے کھیلنا کودنا بے حد پسند تھا لیکن اب اس کے بچپن کے کئی حصے چھن چکے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کی جانب سے حملوں کی دھمکی کے بعد معصوم فلسطینی بچہ اپنی پسندیدہ پتنگیں پھاڑنے پر مجبور
رشا نے ۱۱ مئی کے حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم ایک عام خاندان تھے۔ وہ ایک عام سا دن تھا۔ ہم نے ناشتہ کیا اور خیمے میں بیٹھے تھے کہ اچانک پڑوس کے خیمے پر براہ راست اسرائیلی حملہ ہوا۔ میری بیٹی زخمی ہوگئی اور اس کی ٹانگ چلی گئی۔“ رشا اور ان کا بیٹا بھی شدید زخمی ہوئے لیکن وہ رو بہ صحت ہوگئے، جبکہ جملات کے زخم اس قدر شدید نوعیت کے تھے کہ ڈاکٹروں کو اس کی بائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔
خیمے کے اندر وقت گزارنے پر مجبور جملات اکثر اپنے والد کے فون پر اپنی پرانی تصاویر دیکھتی ہے اور اس تصویر پر رُک جاتی ہے جس میں زخمی ہونے سے پہلے اس کی دونوں ٹانگیں صحیح سلامت تھیں۔ اس نے بار بار اپنی والدہ سے کہا ہے کہ وہ ”اس کی ٹانگ واپس دلائیں“ تاکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کھیل سکے۔ وہ ابھی تک پوری طرح یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ نقصان مستقل ہے۔ رشا نے کہا کہ ”اس بچی نے ایسا کیا کِیا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہوا؟ اس کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ غزہ میں رہنے والی ایک بچی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار، ادویات کی قلت ۴۷؍ فیصد تک پہنچ گئی
واضح رہے کہ جملات کا کیس، غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کٹاؤ (امپیوٹیشن) کی وجہ سے اپنے اعضاء کھونے والے ہزاروں فلسطینیوں میں شامل ہے۔ غزہ کے ’مصنوعی اعضاء اور فالج بحالی مرکز‘ کے مطابق، وزارتِ صحت نے ۶۰۰۰ سے زائد ایسے کیسز ریکارڈ کئے ہیں۔ ان میں تقریباً ۲۵ فیصد بچے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی نے مصنوعی اعضاء اور بحالی کے سامان کی دستیابی کو شدید محدود کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق شدید ضرورت کے باوجود دسمبر ۲۰۲۵ء سے اب تک غزہ میں صرف تقریباً ۳۰۰ مصنوعی اعضاء ہی پہنچائے جا سکے ہیں۔