اس سے قبل مسجد سے متصل درگاہ پر بلڈوزر چل چکا ہے، مسجد کیخلاف شکایت ملنے کا الزام، مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تعمیر سے متعلق ضروری دستاویزات طلب کئے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 11:48 AM IST | Tamim Ahmad Nasimi | Moradabad
اس سے قبل مسجد سے متصل درگاہ پر بلڈوزر چل چکا ہے، مسجد کیخلاف شکایت ملنے کا الزام، مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تعمیر سے متعلق ضروری دستاویزات طلب کئے۔
بلڈوزر وں سے اپنی پہچان بنانے والی یوگی سرکار کے نشانے پر ایک اور مسجد آگئی ہے۔ اس بار اس کا رخ مرادآباد ہے جہاں حال ہی میں مسجد سے متصل درگاہ پر بلڈوزر چلایا گیا تھا۔مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کے مین گیٹ سے متصل ۴۰؍ سال پرانی مسجد کو بغیر نقشہ کی منظوری کے تعمیر کرنے کی شکایت کے بعد نوٹس جاری کیا ہے۔ ایم ڈی اے نے مسجد انتظامیہ کو تعمیرات اور نقشہ کی منظوری سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ مسجد کے امام حافظ محمد شان ازہری نے کہا کہ وہ نوٹس یا تعمیراتی دستاویزات سے لاعلم ہیں،وہ وہاں صرف نماز پڑھاتے ہیں۔ مصطفیٰ مسجد کے حوالے سے شکایت میں کہا گیا کہ تعمیراتی نقشہ اتھارٹی سے منظور نہیں کیا گیا۔ ریکارڈ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد ایم ڈی اے نے نوٹس جاری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سنگاپور: دنیا کے اعلیٰ ترین تنخواہ دار وزیراعظم کا اضافی تنخواہ وقف کرنے کا عہد
غور طلب ہے کہ۷؍ جولائی کو ٹی ایم یو کے قریب بابا فولاد شاہ کے مزار کو بلڈوزر کے ذریعے زمین بوس کر دیا گیاتھا۔ اس معاملے میں شکایت بھی درج کرائی گئی تھی۔ اس تعلق سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ریونیو گاؤں پاکبڑا میں واقع یہ زمین غیر زرعی، زیر آب یا تالاب کی زمین کے طور پر درج ہے۔ اس جگہ پر سب سے پہلے بابا فولاد شاہ کا مزار بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد غیر قانونی طور پر اس جگہ پر قبضہ کر لیا گیا اور مستقل تعمیرات کر لی گئیں۔ اس معاملے میں تحصیلدار صدر کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں، تحصیلدار صدر کورٹ نے ریونیو کوڈ کے سیکشن ۶۷؍ کے تحت بے دخلی کا حکم جاری کیا۔ غیر قانونی قابض پرایک لاکھ ۷۳؍ہزار ۳۰؍ روپے کا معاوضہ اورچار ہزار روپے قانونی چارہ جوئی کے اخراجات بھی وصول کئے گئے تھے۔ اس جگہ کے ذمہ دار محبوب نے تحصیلدار کورٹ کے حکم کے خلاف ضلع مجسٹریٹ کی عدالت میں اپیل کی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے تحصیلدار صدر کے حکم کو برقرار رکھا۔ جس کے بعد اراضی پر تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔ایم ڈی اے کے نائب صدرانوبھو سنگھ کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کو مسجد مصطفیٰ کے حوالے سے شکایت موصول ہوئی۔ شکایت میں کہا گیا کہ نقشہ منظور نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ نوٹس جاری کیا گیا اور دستاویز طلب کئے گئے ہیں۔دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد قواعد کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔