Updated: April 19, 2026, 5:03 PM IST
| New York
یو این سربراہ انتونیو غطریس نے عالمی کشیدگی کے بڑھتے ماحول میں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو مزید مضبوط کریں اور طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی کو ترجیح دیں۔ انہوں نے آئی سی جے کی۸۰؍ویں سالگرہ پر خبردار کیا کہ قانون کی خلاف ورزی عالمی عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے، اس لئے تنازعات کا حل پرامن طریقے سے نکالنا ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف کی۸۰؍ ویں سالانہ یادگاری کتاب پر دستخط کئے۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش بحرانی حالات اور بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں رکن ممالک بین الاقوامی قانون سے اپنی وابستگی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے قیام کی۸۰؍ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تاریک اور مشکل دور میں دنیا کے لیڈروں نے ایک ایسے مستقبل کو رد کر دیا تھا جو جبر اور تشدد پر مبنی ہو، اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر مبنی نظام کو اپنایا۔ انہوں نے آئی سی جےکی صورت میں عالمی عدالت قائم کی جس کی بنیاد اس یقین پر تھی کہ قانون کی طاقت کو ہمیشہ طاقت کے قانون پر غالب آنا چاہئے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں میں آئی سی جے کے فیصلوں اور مشاورتی آرا نے جدید دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج عدالت کے سامنے بڑھتے ہوئے مقدمات اس کی ساکھ اور خودمختاری پر اعتماد کا واضح ثبوت ہیں۔ عدالت کے کام کے طریقے کو جدید بنانے اور ججوں میں صنفی توازن بڑھانے کی کوششیں بھی پیش رفت کی علامت ہیں۔ یہ عدالت اس بات کی ضامن ہے کہ خودمختاری اور مساوات صرف کاغذ پر لکھے الفاظ نہیں۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ بے پناہ طاقت بھی قانونی ذمہ داری کی جگہ نہیں لے سکتی۔
بین الاقوامی قانون کی پامالی
سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ آج بین الاقوامی قانون کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے۔ عسکری کارروائیوں میں جنگ کے بنیادی اصولوں کی پرواہ نہیں کی جا رہی اور انسانی ہمدردی کے تقاضے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحفظ کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور `آئی سی جے سمیت دیگر عدالتی اداروں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب طاقت کا قانون، قانون کی طاقت پر غالب آ جائے تو عدم استحکام پھیل جاتا ہے، تنازعات سرحدوں سے باہر نکل جاتے ہیں، معاشی دھچکے پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں اور ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی نسل کشی کی مذمت پر سزا دی جارہی ہے: پولینڈ کے قانون سازکا عزم برقرار
درست انتخاب کی ضرورت
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج عالمی برادری کو ایک اور بحرانی وقت کا سامنا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ مستقبل قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو گا یا محض طاقت پر۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہی وہ وقت ہے جب بین الاقوامی قانون کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے، خصوصاً اس دور میں جب طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں۔ انتونیو غطریس نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کو مضبوط کریں، تنازعات کے پرامن حل کیلئے اپنی وابستگی کی تجدید کریں، آئی سی جے کے فیصلوں کا احترام کریں، اس کی مشاورتی آرا پر عمل کریں اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کریں۔ بحران کے لمحے میں یہی واحد درست راہ ہے اور سبھی اسے اختیار کرنے کی ہمت دکھائیں۔