Inquilab Logo Happiest Places to Work

یکم ستمبر سے ۵؍مقامات پر ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک

Updated: August 29, 2026, 11:02 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اس کااہتمام ’اے پی سی آر‘ کی جانب سے کیا جائے گا۔ ان میں مدنپورہ، گوونڈی، مالونی، تھانے رابوڑی اور میرا روڈ علاقے شامل ہیں۔ یہاں وکلاء صبح سے شام تک اپنی خدمات پیش کریں گے۔ جن ووٹروں کے نام کٹ گئے ہیں یا ان کا کوئی دوسرا مسئلہ ہے، ان کی رہنمائی اور انہیں قانونی مدد فراہم کرائیںگے۔

Following the first phase of the SIR, a draft list will now be issued. Picture: INN
ایس آئی آر کے پہلے مرحلہ کے بعد اب ڈرافٹ لسٹ جاری کی جائے گی۔ تصویر: آئی این این

سپیشل انٹنسیو رویژن (ایس آئی آر) کا پہلا مرحلہ یعنی فارم کی تقسیم اوراسے جمع کرانے کے بعد ۳۱؍ اگست کو ڈرافٹ لسٹ جاری کی جائے گی۔ اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ کس کا نام شامل کیا گیا ہے اور کس کا نام کاٹ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد دیگر مراحل یعنی نوٹس بھیجنے اور اعتراضات کرنے وغیرہ کا عمل شروع ہوگا پھر آخری مرحلہ فائنل لسٹ شائع کرنے کا ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کھارگھر: زیراکس کی دکان پر ایس آئی آر کے۳۴۰۰؍ فارم ملے، کیس درج

ڈرافٹ لسٹ آنے کے فوراً بعد یعنی یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے رائے دہندگان کی قانونی مدد کے لئے ’اسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)‘ کی جانب سے مہم شروع کی جائے گی اور شہر اورمضافات کے ۵؍علاقوں مدنپورہ، گوونڈی، مالونی، تھانے رابوڑی اور میرا روڈ میں ’ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک بائی اے پی سی آر‘ لگایا جائے گا۔ ان ہیلپ ڈیسک پر وکلاء باقاعدہ یونیفارم پہن کر بیٹھیں گے، انہیں اے پی سی آرکی جانب سے آئی کارڈ بھی دیا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنک فوڈپر پابندی کے بعدایف ڈی اے کا مڈڈے میل کےمعائنہ کا اعلان

اس ہیلپ ڈیسک کا مقصد یہ بتایا گیا کہ جو لوگ ان علاقوں میں رہتے ہیں، انہوں نے ووٹ دیا پھر بھی اگران کا نام کسی وجہ سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں کیا جاتاہے یا انہیں اس ضمن میں کوئی اورمسئلہ پیش آتا ہے تو ایسے رائے دہندگان کے دستاویزات دیکھ کر ان کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں قانونی مددبھی فراہم کی جائے گی۔ یہ کام بلاتفریق مذہب وملت کیا جائے گا تاکہ ایک بھی شہری ووٹ کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ یہ تفصیلات نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر اے سی پی آر کے سکریٹری شاکر شیخ نےفراہم کروائیں۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ ایس آئی آر کے دوران جس طرح کے حالات پیش آئے، بار بار توجہ دلائی گئی، بی ایل او اور الیکشن عملہ کی جانب سے تساہل برتا گیا، بہت سے لوگوں تک فارم نہیں پہنچایا گیا، بہت سے رائے دہندگان کی صحیح طریقے سے رہنمائی نہ کرنے کے سبب ان کی ٹھیک میپنگ نہیں ہوئی یا بی ایل او گھر گھر نہیں پہنچے، ان ہی وجوہات کی بناء پر یہ محسوس کیا گیا کہ رائے دہندگان کی مدد ضروری ہے۔ اسی سبب یہ قدم اٹھایا جارہا ہے تاکہ ایک بھی شہری اپنے ووٹ کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: پریل : جلوس سے لوٹتے وقت چند شرکاء پر شر پسندوں کے حملہ کا الزام ،۳؍افراد پر کیس درج

’’ تقاضا کیا گیاتودیگر جگہ بھی نظم  جائیگا‘‘

پوچھنے پر کہ کیا ان ہی  ۵؍ علاقوں تک اے پی سی آر کی خدمات محدود رہیں گی؟ تو اے سی پی آر کے سکریٹری شاکرشیخ نے کہاکہ ’’نہیں، اگر کسی اورعلاقے میں ایسی ضرورت محسوس کی گئی اور  وہاں کے مقامی اشخاص نےتقاضا کیا تو اُن علاقوں میں بھی وکلاء کا اسی طرح نظم کیا جائے گا۔ یہ وکلاء صبح دس بجے سے شام ۶؍بجے تک  بجے اپنی خدمات مفت پیش کریں گے۔‘‘

۲۰۰۲ءکی لسٹ میں نام نہ ملنے والوں کو کیا کرنا ہوگا ؟
(۱)اگر کسی کا نام ۲۰۰۲ء کی ووٹرلسٹ میں نہیں تھا اور اس کے رشتے داروں کا نام بھی نہیں مل سکا ہے تو انومریشن فارم (ای ایف) کا نو لنکج والا کالم بھر کر وہ ووٹر اپنا نام درج کرواسکےگامگر ایسے ووٹروں کو نوٹس جاری ہوگا۔ انہیں اپنے دستاویزات کے ساتھ ہیئرنگ کے وقت الیکشن آفس پہنچنا ہوگا۔
(۲) جن تک انومریشن فارم نہیںپہنچا یا انہوں نے حاصل نہیں کیا۔ ان کا نام کٹ جائے گا۔ انہیںاپنا نام دوبارہ شامل کرانے کےلئے بعد میں فارم نمبر ۶؍بھرنا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK