Inquilab Logo Happiest Places to Work

انو شکتی نگر: ایس آئی آر کے آخری دن بی ایل اوز کو سیکڑوں فارم بھرنا پڑا

Updated: August 18, 2026, 3:47 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ٹھیک طرح سے اسکیننگ اور دیگر کارروائی مکمل نہ ہونے سے اس علاقے کے انومریشن فارم دوبارہ بی ایل اوز کے پاس بھیجے گئے۔ فارم غیر تربیت یافتہ نوجوانوں سے اسکین کروانے کا الزام۔ سینئر افسر کی تردید۔

In the Anushakti Nagar Assembly constituency, some BLOs are busy filling out Form 6. Picture: Inquilab
انوشکتی نگراسمبلی حلقہ انتخاب میں چند بی ایل او ایس آئی آر کا فارم بھرنے میں مصروف ہیں۔ تصویر: انقلاب

 منگل، ۱۷؍ اگست ریاست میں ’ایس آئی آر‘ (اسپیشل انٹنسیو ریویژن) کے تحت رائے دہندگان کا انومریشن فارم جمع کرنے کا آخری دن تھا لیکن انوشکتی نگر ودھان سبھا حلقہ میں اکثر و بیشتر ’بی ایل او(بوتھ لیول آفیسر)‘ انومریشن فارم پُر کرنے میں مصروف نظر آئے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس علاقے کے زیادہ تر فارم غیر تربیت یافتہ طلبہ سے اسکین کروائے گئے تھےجو غلطیوں کا سبب بنے اور انہیں دوبارہ بی ایل او کے پاس بھیجا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ۱۷۲؍ انوشکتی نگر اسمبلی حلقہ انتخاب میں رائے دہندگان کی تعداد ۳؍ لاکھ ۷۳؍ ہزار ۸۵۵؍ ہے جبکہ انتقال کرجانے والے اور دیگر مقامات پر منتقل ہونے والوں جیسی وجوہات کی بناء پر جو نام حذف کئے جانے ہیں، ان کی تعداد ایک لاکھ ۲۵۹؍ ہے۔ مقامی افراد کا سوال ہے کہ ۳؍ لاکھ میں سے ایک لاکھ افراد کے نام حذف ہونا کیسے ممکن ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کا خوف، راجستھان کے اسکولوں میں باہری افراد کے داخلہ پر پابندی

پیر کو ایس آئی آر مہم کا آخری دن ہونے کے باوجود اس حلقہ انتخاب میں بڑی تعداد میں بی ایل او انہیں واپس ملنے والے فارم میں تصحیح کرنے اور انہیں دوبارہ جمع کرانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔ 

ایک بی ایل او نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انقلاب کو بتایا کہ ’’ہر بی ایل او کے پاس مختلف تعداد میں فارم واپس بھیجے گئے ہیں، جن کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ ‘‘ اس افسر نے یہ بھی کہا کہ ’’مانخورد میں واقع ’ای سی ایس‘ سینٹر پر فارم اسکین کرنے کی ذمہ داری نوجوان طلبہ کو دی گئی تھی۔ ان طلبہ نے کسی فارم میں فوٹو اسکین نہیں کیا تو کسی فارم کی تفصیل غلط درج کردی جس کی وجہ سے ہر بی ایل او کے حصے کے سیکڑوں فارم ناقابل قبول تھے۔ کئی میں ’اینومیلی(غلطی)‘ بتائی گئی اس لئے فارم دوبارہ ان کے پاس بھیجے گئے ۔ ‘‘

مقامی سماجی کارکن رفیق شیخ نے کہا کہ ’’ہم سے جتنے افراد کا انتظام ہوسکا، ہم نے مختلف سینٹروں پر بی ایل او کی مدد کیلئے بھیج دیئے لیکن ۱۷۲؍ انوشکتی نگر ودھان سبھا میں بی ایل او کی تعداد ۲۶۲؍ ہے اور اکثر و بیشتر بی ایل او کے پاس سیکڑوں فارم واپس آئے ہیں تو ہم ہر ایک کے پاس تو کسی کو مدد کیلئے نہیں بھیج سکتے۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : ایف اے سی کے نام پر بجلی صارفین پر اضافی بوجھ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بہت بڑی تعداد میں مقامی افراد اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ اس طرح کی کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے۔ جو لوگ واقف ہیں، ان میں سے بھی زیادہ تر لوگ انتظار میں ہیں کہ آئندہ مرحلے میں اگر انہیں بلایا گیا تب درپیش مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے گا۔ ‘‘

’’کسی بھی نابالغ کو ذمہ داری نہیں کی دی گئی‘‘

اس تعلق سے جب اس حلقہ انتخاب کے انچارج عاصم جمعدار سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’اس کام کیلئے کسی بھی نابالغ کو کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی۔ جن افراد کا نام اینومیلی (غلطی) میں آیا ہے، ہم نے ان کی غلطیوں کو درست کرواکر فارم دوبارہ بھروا دیئے ہیں جس میں عوام کا ہی فائدہ ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ طلبہ کی غلطیوں کے سبب بڑی تعداد میں فارم واپس آئے ہیں۔ 

’’سیلف اسکیننگ میں غلطیاں ہوئی ہیں‘‘

مقامی رکن اسمبلی  ثناء ملک نے بھی کہا کہ جن افراد نے ’سیلف اسکیننگ کی تھی ، ان میں غلطیاں ہوئی ہیں اور بی ایل او نے ان غلطیوں کو درست کرکے فارم دوبارہ جمع کروادیئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے ذریعے  ایس آئی آر کا کام اور غلطیوں کی وجہ سے   فارم واپس آنے   سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل او نے اپنا کام کردیا ہے اور اس حلقہ کا ایس آئی آر کا تقریباً پورا کام مکمل ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK