جلگائوں ضلع میں واقع اس گائوں میں کوئی قبرستان یا شمشان نہیں ہے، میت کو ندی کے اس پر لے جانا پڑتا ہے، ندی پر پل بھی نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 4:30 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
جلگائوں ضلع میں واقع اس گائوں میں کوئی قبرستان یا شمشان نہیں ہے، میت کو ندی کے اس پر لے جانا پڑتا ہے، ندی پر پل بھی نہیں ہے۔
جلگائوں ضلع کے چالیس گاؤں تعلقے میں واقع قصبے کھڑکی بدرک میں بنیادی سہولیات کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ یہاں ایک قبرستان یا شمشان بھی نہیں ہے ۔ اگر گائوں میں کسی کی موت ہو جائے تو اس کے جنازے یا ارتھی کو کندھے پر اٹھا کر ندی کے اس پار لے جانا پڑتا ہے تاکہ اس کی تدفین کی جا سکے یا آخری رسومات ادا کی جا سکے۔ اطلاع کے مطابق جلگائوں ضلع کے چالیس گائوں تعلقے میں واقع کھڑکی بدرک علاقے میں قبرستان یا شمشان گھاٹ نہیں ہے ۔ تدفین یا آخری رسومات کیلئے تتوری ندی کے اس پار جانا پڑتا ہے۔ گائوں والے برسوں سے ندی کے اوپر ایک پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اب تک اس مطالبے پر انتظامیہ نے توجہ نہیں دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کی نئی ٹیم کا اعلان، نوجوانوں اور خواتین کو ترجیح، مالویہ کی چھٹی
اس سلسلے میں ایک مقامی شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ’’ گاوں میں کسی کی موت ہو جانے پر ہمیں بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر کاندھوں پر جنازہ یا ارتھی لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے اور اس پار جانا پڑتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ’’ جس گھر میت ہو وہ پہلے ہی غمگین ہوتے ہیں اور انہیں اس وقت شرمندہ ہونا پڑتا ہے جب میت کو کندھا دینے باہر سے آئے احباب یا رشتہ داروں کو بھی قبرستان پہنچنے کیلئے ندی کے پانی سے گزرنا پڑتا ہے ۔‘‘
یاد رہے گائوں میں یہ سنگین مسئلہ گا برسوں سے درپیش ہے۔اس سال کم بارش کی وجہ سے ندی میں پانی کی سطح نسبتاً کم ہے۔تاہم پچھلے سال اور اس سے قبل کئی مواقع آئے جب مانسون کے دوران تیتور ندی میں پانی کی سطح بڑی ہوئی تھی اور گاؤں والوں کو میت لے کر کمر تک کے گہرے پانی سے گزرنا پڑا تھا۔ کھڑکی بدرک کے باشندے کئی سال سے ندی کے اوپرپل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ گرام پنچایت نے بھی وقتاً فوقتاً اس معاملے میں بھاگ دوڑ کی ہے۔ تاہم یہ مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ جب صاحب رائو گھوڑے چالیس گاؤں کے رکن اسمبلی تھے تب سےپل کی تعمیر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے بعد کئی اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان آئے اور گئے مگر یہ مسئلہ برسوں سے جوں کا توں ہے۔ بات صرف قبرستان اور شمشان گھاٹ تک جانے کی نہیں ہے ، یا دیگر علاقوں تک رسائی کی نہیں ہے بلکہ انسانی وقار اور تحفظ کی بھی ہے۔ جنازہ یا ارتھی لے کر ندی پار کرنا نہ صرف شرمندگی کا باعث بنتا ہے بلکہ لوگوں کی جان کیلئے خطرہ بھی رہتا ہے۔ اس لئے فوری طور پر یہاں پل کا بنایا جانا ضروری ہے۔