اگست کے بجلی بل میں ۲۰؍پیسے سے ۶۰؍ پیسے فی یونٹ اضافی چارج لیا جائیگا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 11:24 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
اگست کے بجلی بل میں ۲۰؍پیسے سے ۶۰؍ پیسے فی یونٹ اضافی چارج لیا جائیگا۔
بجلی کے بڑھتے بل سے پریشان صارفین پر ایک بار پھر اضافی مالی بوجھ پڑنے والا ہے۔ جولائی میں استعمال کی گئی بجلی کے عوض اگست میں موصول ہونے والے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارج (ایف اے سی) کے نام پر اضافی رقم شامل ہونے کی توقع ہے۔ بجلی کے استعمال اور صارفین کی مختلف کیٹیگری کے لحاظ سے ایف اے سی کی شرح مقرر کی گئی ہے جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے ساتھ صنعتی اور تجارتی شعبہ بھی اضافی بوجھ کی زد میں آئے گا۔ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی کھپت کے حساب سے ایف اے سی کی مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ بی پی ایل صارفین سے ۱۰؍ پیسے فی یونٹ ، ۱۰۰؍ یونٹ تک استعمال پر ۲۰؍ پیسے ، ۱۰۱؍ سے ۳۰۰؍ یونٹ تک ۴۰؍ پیسے ، ۳۰۱؍سے ۵۰۰؍ یونٹ تک ۵۵؍ پیسے جبکہ ۵۰۰؍یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں سے ۶۰؍ پیسے فی یونٹ اضافی چارج وصول کیا جائے گا۔ یعنی بجلی کی کھپت بڑھنے کے ساتھ ایف اے سی کا بوجھ بھی بڑھتا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:یو جی سی -این ای ٹی امتحان منسوخ، طلبہ سراپا احتجاج
صنعتوں اور کاروباری اداروں کو بھی راحت نہیں
ایف اے سی کے اضافی بوجھ سے صنعتی اور تجارتی شعبہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ ہائی وولٹیج صنعتی صارفین (پاور لوم۔ ۲۸؍ ہارس پاور سے زیادہ) سے ۳۰؍ سے ۴۵؍ پیسے فی یونٹ جبکہ لو وولٹیج(۲۷؍ ہارس پاورسے کم) صنعتی صارفین سے ۲۵؍ سے ۳۵؍ پیسے فی یونٹ اضافی چارج لئے جانے کی اطلاع ہے۔ اسی طرح لو وولٹیج تجارتی صارفین(دکان و دیگر) کیلئے ایف اے سی ۴۰؍ سے ۶۰؍ پیسے فی یونٹ تک مقرر کیا گیا ہے۔
بھیونڈی پاور لوم مزوری بیم ویورس اینڈ اونرس اسوسی ایشن کے صدر تروپتی وی سری پورم نے صارفین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی بل کو محض ادائیگی کی رسید سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ اس میں درج ہر چارج ، بجلی کی فی یونٹ شرح اور دیگر تفصیلات کا بغور جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بڑھتے اخراجات کا براہ راست اثر عام خاندانوں ، چھوٹے کاروباریوں اور صنعتی اداروں پر پڑتا ہے ، اس لئے صارفین کا اپنے بل اور بجلی کے نرخوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کیخلاف مقدمہ پر سپریم کورٹ کی روک
بھیونڈی جیسے صنعتی شہر میں اثر زیادہ
بھیونڈی پاور لوم اور مختلف چھوٹی بڑی صنعتوں کا اہم مرکز ہے۔ ایسے میں بجلی کی قیمت اور اضافی چارج میں معمولی اضافہ بھی پیداوار کی لاگت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ صنعتی اداروں کے ساتھ چھوٹے کاروباری اور تجارتی صارفین بھی اس اضافی بوجھ سے متاثر ہوں گے جس کا بالواسطہ اثر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایف اے سی کے اضافی بوجھ کی اطلاع سامنے آنے کے بعد صارفین میں تشویش کے ساتھ ساتھ بجلی بلوں کی شرحوں کو لے کر بحث بھی تیز ہونے کے امکانات ہیں۔