ایران کا امریکی اتحادیوں کواقتصادی جنگ سے دوررہنے کا انتباہ،صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن نے ہمیں وینزویلا سمجھا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 1:15 PM IST | Agency | Tehran
ایران کا امریکی اتحادیوں کواقتصادی جنگ سے دوررہنے کا انتباہ،صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن نے ہمیں وینزویلا سمجھا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی دھمکی کے جواب میں ایران نے بھی انتباہ دیا ہے کہ جو ممالک تہران کے خلاف عائد کی جانے والی امریکی اقتصادی پابندیوں میں شریک ہوں گے، انہیں ایران دشمن تصور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی واضح الفاظ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی اقدام کی صورت میں واشنگٹن کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ایرانی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ تمام ممالک اور خصوصاً پڑوسی ریاستیں امریکہ کی شروع کردہ اقتصادی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں شامل ہونے والے ہر ملک کو ایران دشمن سمجھا جائے گا۔ رضائی نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تہران کا جواب زلزلے جیساہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: مصر: عیسائی شخص نے قرآن مقابلہ جیت کر عمرہ کا انعام مسلمان پڑوسی کو دے دیا
’’دنیا کی ایران کی ثابت قدمی اور یکجہتی دیکھ کر حیران رہ گئی‘‘
دریںاثناء ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو کہا کہ ملک کے دشمنوں کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ شدید دباؤ کے باعث ایران تباہ ہوجائے گا اور وینزویلا جیسا بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے دباؤ کے باوجود ثابت قدمی، اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔مسٹر پزشکیان نے یوم حکومت کے پہلے دن اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خامنہ ای کے مزار پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران زوال کا شکار ہوجائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ایران اتنا مضبوط ہوگیا کہ دنیا اس کی ثابت قدمی اور یکجہتی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے، تاہم مسلسل دباؤ کے باوجود ملک کے مضبوط رہنے پر زور دیتے ہوئے ایرانی عوام سے اتحاد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عالمی تحفظ کی تعیناتی ضروری: اقوام متحدہ
’’امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوں گی‘‘
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب ہونی مشکل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کیلئے بیجنگ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین نے ۲۰۲۵ء میں ایران کے ساتھ تقریباً۴۱ء۲؍ ارب ڈالر کی تجارت کی، جبکہ اسی سال چین نے ایران سے تقریباً۳۱ء۲؍ ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا۔ چینی خریدار ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا بعض اوقات تقریباً ۹۰؍ فیصد تک حصہ لیتے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے تیل کے بڑے خریدار چین کی چھوٹی نجی ریفائنریاں ہیں، جنہیں عام طور پر ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے نسبتاً کم منسلک ہونے کی وجہ سے روایتی امریکی پابندیوں سے زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے تاجروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے، لیکن اگر چین ایرانی تیل خریدتا اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو ایران کے پاس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ موجود رہے گا۔دوسری جانب چین کے پاس بھی امریکہ پر معاشی دباؤ ڈالنے کے ذرائع موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ امریکہ کو درکار اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کو وضو، ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
ایرانی لیڈروں کی اہم میٹنگ
ہتھیاروں کی جنگ کے بعد امریکہ کی اقتصادی جنگ سے بھی نپٹنے کیلئے ایرانی لیڈر سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ایران میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی جنگ کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نپٹنے کیلئے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ’ ارنا‘ کے مطابق ملاقات میں تینوں اداروں کے سربراہان نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ریاستی اداروں کے درمیان بہتر اور مؤثر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ امریکی معاشی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور عوام کی زندگیوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو روکا جاسکے۔