Updated: August 22, 2026, 10:04 PM IST
| Dubai
مصر میں ایک عیسائی شخص نے اسلامی مقابلے میں قرآنِ مجید سے متعلق سوالات کے جواب دے کر مفت عمرہ کا سفر جیت لیا، مگر اس انعام کو اپنےلئے رکھنے کے بجائے مسلمان پڑوسن کو دینے کا فیصلہ کیا۔ دو دہائیوں سے زائد پرانے تعلق اور بھائی چارے کی یہ مثال سوشل میڈیا پر مسلم و عیسائی اتحاد اور انسانی ہمدردی کی خوبصورت علامت بن گئی۔
عیسائی شخص مینا جس نے قرآن مجید کا مقابلہ جیتا۔ تصویر: ایکس
مصر میں ایک عیسائی شخص نے ایک اسلامی مقابلے میں حصہ لینے کے بعد انعام کے طور پر مفت عمرہ کا سفر جیتا۔ اس مقابلے میں شامل ہونے والے شرکاء کے قرآن مجید کے علم کا امتحان لیا گیا تھا۔ مینا نامی اس شخص کا شروع ہی سے ایک انوکھا مقصد تھا کہ وہ انعام جیت کر اپنی مسلمان پڑوسی، ام علی (مونا) کو دے اور ان کی عمرہ کرنے کی دیرینہ خواہش پوری کرنے میں مدد کرے۔ اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق، مینا نے بتایا کہ وہ اسلامی مبلغ ڈاکٹر ایمن ابو عمر کی میزبانی میں ایک سوشل میڈیا لائیو اسٹریم دیکھ رہے تھے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کی پڑوسی عمرہ کا سفر جیتنے کی امید میں قرآن کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ بھی ناکام ہوں گی: ایران کا ٹرمپ کی نئی اقتصادی پابندیوں پر ردعمل
یہ جاننے کے بعد کہ ان کی پڑوسی کیلئے یہ سفر کتنا معنی رکھتا ہے، مینا نے خود بھی مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ’’میں عیسائی ہوں، لیکن میں نے اسلامی مذہبی مقابلے میں حصہ لیا، ‘‘ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مقصد اپنی پڑوسی کے لیے عمرہ کا سفر جیتنا تھا۔ مینا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ام علی کو یہ دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ نہیں بھی جیت پاتیں، تب بھی ان کے پاس اس انعام کو جیتنے کا ایک اور موقع ہوگا۔ اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ اس مقابلے میں حصہ لیں گے تاکہ ان کی جگہ انعام حاصل کر سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے منتخب ہونے کے امکانات کو بہتر بنانے کی کوشش میں ۵۰؍سے۶۰؍ بار درست جوابات جمع کروائے۔ یہ حکمت عملی کام کر گئی اور مینا نے مفت عمرہ کا سفر جیت لیا، ایک ایسا انعام جسے وہ فوری طور پر اپنی پڑوسی کو دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات: ہر۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار
ام علی نے بتایا کہ مقابلے کے دوران مینا کی شرکت نے سب کی توجہ حاصل کی تھی اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے لیے عمرہ کا انتظام کر دیا گیا ہے تو وہ جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمرہ کرنا ان کی دیرینہ خواہش تھی اور انہوں نے اس موقع کیلئے اس وقت بھی دعا کی تھی جب وہ جسمانی طور پر آسانی سے سفر کرنے اور چلنے پھرنے کے قابل تھیں۔ مینا نے جب ام علی کے گھر جا کر یہ خبر انہیں سنائی تووہ آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں نہیں جانتا تھا کہ ایک عمرہ اتنی خوشیاں لا سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میرے والد صرف ایک نمبر نہیں: لبنانی صحافی کا اسرائیل سے جواب دہی کا مطالبہ
۲۰؍ سال سے زائد کا پڑوس
مینا نے بتایا کہ ام علی اور ان کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق دو دہائیوں سے زیادہ پرانا ہے، جو محض عام پڑوسیوں جیسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ام علی کو اپنی بڑی بہن سمجھتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی ویسا ہی احترام اور پیار کرتے ہیں جیسا وہ اپنے خاندان سے کرتے ہیں۔ اس واقعہ نے مصر میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے، جہاں بہت سے صارفین نے مسلم اور عیسائی پڑوسیوں کے درمیان موجود قریبی رشتوں کی مثال کے طور پر اس کی تعریف بھی کی ہے۔