سپریم کورٹ کا واضح حکم ،کہا کہ حراست اور گرفتاری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی حد حراست میں لینے سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 3:23 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ کا واضح حکم ،کہا کہ حراست اور گرفتاری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی حد حراست میں لینے سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔
گرفتاری اور حراست سے متعلق سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے گرفتاری اور حراست کے درمیان کئے جانے والے فرق کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی ۲۴؍ گھنٹے کی حد باضابطہ گرفتاری سے نہیں بلکہ حراست میں لئے جانے کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حراست اور گرفتاری کے درمیان کوئی فرق قائم کرنے کی کوشش آئینی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔جسٹس اجّول بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندُرکر کی بنچ نے کہا کہ یہ ماننا کہ ۲۴؍ گھنٹے کی مدت باضابطہ گرفتاری سے شروع ہوتی ہے، آئین کے آرٹیکل ۲۲؍ اور بی این ایس ایس کی دفعہ ۵۶؍کے آئینی التزامات کے خلاف ہے۔ آرٹیکل ۲۲؍کے تحت کسی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے کی گئی پوچھ گچھ یا تفتیش میں صرف ہونے والے وقت کو مجموعی وقت کی حد سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ایسا کرنا آئین کی خلاف ورزی مانا جائے گا ۔
عدالت نےکیا تبصرے کئے؟
عدالت نے کہا کہ آئین میں صرف ایک استثنیٰ دیا گیا ہے، اور وہ ہے گرفتاری کی جگہ سے مجسٹریٹ کی عدالت تک پہنچنے میں لگنے والا وقت۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس لئے یہ دلیل کہ آرٹیکل ۲۲؍کی شق ۲؍ کے تحت ۲۴؍ گھنٹے کی مدت تلاشی اور ضبطی کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یا گرفتاری کرنے والے افسر کے ذریعے درج کیے گئے گرفتاری کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ مکمل طور پر غیر آئینی بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس نظریہ سے اختلاف کیا کہ کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھنا گرفتاری نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو کچھ وقت کیلئے بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ حراست اور گرفتاری کے درمیان کوئی مصنوعی فرق قائم کرنا آئینی طور پر غلط ہے۔ عدالت نے ادیشہ ہائی کورٹ کے آریہ من پٹنائک معاملے، کیرالہ ہائی کورٹ کے ارون کے تھامس معاملے اور مدراس ہائی کورٹ کے کنّن معاملے میں د ئیے گئے فیصلوں کو مسترد کر دیا۔ ان فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ گرفتاری سے قبل حراست میں گزارے گئے وقت کو۲۴؍ گھنٹے کی مدت میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ یہ فیصلے آئین کی دفعہ ۲۲؍کے تحت درست قانونی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ اس لئے انہیں فوری طور پر رد کردیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈوم اسکرولنگ کے بعد ’ہوپ اسکرولنگ‘ کا رجحان، سوشل میڈیا پر امید کی لہر
پولیس کی زیادتی پر گفتگو
عدالت نے واضح کیا کہ اگر پولیس کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ رسمی گرفتاری سے پہلے کی حراست کے وقت کو ۲۴؍ گھنٹے کی مدت میں شامل نہ کرے تو اس سے آئین کی جانب سے شہریوں کو فراہم کیا گیا تحفظ بے معنی ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے بغیر مقررہ ۲۴؍ گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھا جاتا ہے تو اسے فوری طور پر رِہا کیا جانا چا ہئے۔بنچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حراست میں لینے والے حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حراست کی مدت معقول ہو، خواہ وہ آئین کی جانب سے مقرر کردہ ۲۴؍ گھنٹے کی حد کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
جوڈیشیل مجسٹریٹس کو ہدایت
عدالت عظمیٰ نے جوڈیشیل مجسٹریٹس کو بھی ہدایت دی کہ وہ حراست میں لئے جانے کی اصل تاریخ اور وقت کو اپنے ریکارڈ میں درج کریں اور آزادانہ طور پر اس بات کی جانچ کریں کہ آیا آئینی تقاضوں کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔ مجسٹریٹس کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حالات کے اعتبار سے حراست کی مدت مناسب تھی یا نہیں۔ اگر انہیں محسوس ہو کہ کسی شخص کو غیر ضروری طور پر طویل مدت تک حراست میں رکھا گیا ہے تو وہ اسے ریمانڈ پر دینے سے انکار بھی کرسکتے ہیں۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو شہریوں کے بنیادی حقوق اور پولیس کی گرفتاری و حراست سے متعلق اختیارات پر ایک اہم آئینی وضاحت قرار دیا جارہا ہے۔
عدالتی حکم ان نکات کے ذریعے سمجھئے
یہ ماننا کہ ۲۴؍ گھنٹے کی مدت باضابطہ گرفتاری سے شروع ہوتی ہے، آئین کے آرٹیکل ۲۲؍ اور بی این ایس ایس کی دفعہ ۵۶؍کے آئینی التزامات کے خلاف ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو کچھ وقت کیلئے بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔
کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے بغیر مقررہ ۲۴؍ گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھا جاتا ہے تو اسے فوری طور پر رِہا کیا جانا چا ہئے۔
اگر مجسٹریٹ کو محسوس ہو کہ کسی شخص کو غیر ضروری طور پر طویل مدت تک حراست میں رکھا گیا ہے تو وہ اسے ریمانڈ پر دینے سے انکار بھی کرسکتے ہیں۔