• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی پارٹی میں گھمسان، قیادت پر سوال

Updated: November 06, 2026, 3:42 PM IST | Agency

نائب صدر جے ڈی وینس اور ٹیڈ کروز کے بیانات سے سیاسی بحث تیز،ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول سےوزیرجنگ مشکل میں۔

US President Donald Trump faces intense pressure from his party following the defeat in the midterm elections. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر وسط مدتی الیکشن میں شکست کے بعد پارٹی کا شدید دبائو ہے۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایسا  شدیددھچکا لگا ہے جس نے نہ صرف امریکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پارٹی کے اندر بھی زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ٹیکساس، کنساس، ساؤتھ کیرولائنا، آئیووا، نارتھ کیرولائنا اور اوہائیو جیسے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ میں  شکست نے پارٹی کے سامنے قیادت کا سنگین بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہ گیا کہ ٹرمپ حکومت پارلیمنٹ میں کس طرح کام کرے گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے بعد ریپبلکن پارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر کئی نئے طاقت کے مراکز ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور سینیٹر ٹیڈ کروز کے بیانات نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

وینس کو کافی عرصے سے ٹرمپ کا ممکنہ سیاسی جانشین تصور کیا جاتا رہا ہے، جبکہ کروز نے انتخابی شکست کو پارٹی کے  لئےایک سنگین انتباہ قرار دیا ہے۔ وینس کے سامنے اپنی سیاسی شبیہ برقرار رکھنے کا چیلنج بھی ہے۔ انہیں ٹرمپ کے مضبوط ترین ممکنہ جانشینوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے لیے فنڈز جمع کرنے کی اہم ذمہ داری بھی سنبھالی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری پر ہم اسمبلی سے پارلیمنٹ تک بحث کیلئےتیار ہیں‘‘

لیکن پارٹی کی اس بڑی شکست کے بعد ان کی اپنی سیاسی پوزیشن بھی کمزور پڑ گئی ہے۔ اسی درمیان ٹرمپ کے فیصلوں اور خاص طور پر ایران جنگ کے حوالے سے اس شکست کو دیکھا جارہا ہے کیوں کہ ٹرمپ کابینہ کے کئی لیڈر  اپنی شکست کے لئے ایران جنگ اورمہنگائی کو ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔یہاں تک کہ ٹرمپ نے بھی یہی اعتراف کیا ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی  کے سینئر لیڈران ٹرمپ کے خلاف محاذ قائم کررہے ہیں اور پارٹی لیڈر شپ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر پارٹی کو اقتدار میں قائم رہناہے تو اسے ابھی سے کئی سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ 

ٹرمپ کی اس انتخابی شکست کے بعد ’بلیو سونامی‘ کی اصطلاح پر بحث کافی تیز ہو گئی ہے۔ ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے ریپبلکن پارٹی کی شکست کو ’بلیو سونامی‘ اور ’واٹرگیٹ کے درجے کی عوامی مستردگی‘ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پارٹی اس  لئے نہیں ہاری کہ اس کے حامی ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہیں نکلے، بلکہ اس لیے شکست ہوئی کیونکہ پہلے ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے والے ووٹرز اب ڈیموکریٹس کے ساتھ چلے گئے ہیں۔ کروز نے مہنگائی، بدعنوانی، ایران جنگ اور ٹیریف کو ووٹرس کی ناراضی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔دوسر ی جانب ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول سے وزیرجنگ پیٹ ہیگ سیتھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیوں کہ ڈیموکریٹس ان کا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں اور اب انہیں اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

امریکہ میں ایک مرتبہ پھر نئی صبح طلوع ہوئی ہے : ممدانی

وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پرنیویارک کے  میئر ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ایک بار پھر نئی صبح طلوع ہو ئی ہے۔ظہران ممدانی نے انتخابات کے نتائج پر کہا کہ امریکی عوام اب مہنگائی، آسمان سے باتیں کرتے  اخراجات، بچوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے مصارف اور کھانے پینے کی اشیاء کی   قیمتوں سے بری طرح تنگ آ چکے ہیں اور اب انہیں اس بحران سے نکلنے کے لیے مزید دو سال انتظار کرنے پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ممدانی نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اب کھوکھلے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات اور ٹھوس ریلیف چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK