• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، ڈنمارک میں طلبہ سڑکوں پر

Updated: November 06, 2026, 3:47 PM IST | Agency | Copenhagen

دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں طلبا نے سٹی ہال سکوائر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا، مظاہرین نے حکومت کے مجوزہ تعلیمی وظائف میں کٹوتیوں کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ’بس بہت ہوگیا‘ کے نعرے لگائے۔

Students protesting in Copenhagen. Photo: INN
کوپن ہیگن میںطلبہ احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

یورپ میں تعلیمی اخراجات اور طلبہ کو ملنے والی مالی امداد میں کمی کے خلاف احتجاجی تحریک شدید ہونے لگی ہے۔ ڈنمارک میں بھی ہزاروں طلبا نے حکومتی منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں طلبا نے سٹی ہال سکوائر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا، مظاہرین نے حکومت کے مجوزہ تعلیمی وظائف میں کٹوتیوں کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے ’بس بہت ہوگیا‘ کے نعرے لگائے۔

طلبا تنظیموں کے مطابق ڈنمارک کے۵۷؍ تعلیمی اداروں میں تقریباً۴۰؍ ہزار طلبہ نے مجوزہ کٹوتیوں کے خلاف ہڑتال بھی کی، مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر طلبا کی مالی امداد بحال رکھنے اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق نعرے درج تھے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی پارٹی میں گھمسان، قیادت پر سوال

ڈنمارک میں ۱۹۷۰ء سے۱۸؍سال سے زائد عمر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو والدین کی آمدنی سے قطع نظر سرکاری تعلیمی وظیفہ دیا جاتا ہے، اس وقت والدین کے ساتھ رہنے والے طلبہ کو ماہانہ ایک ہزار۱۵۴؍ ڈینش کرونر جبکہ الگ رہائش اختیار کرنے والے طلبہ کو۷؍  ہزار۴۲۶؍ کرونر دئیے جاتے ہیں۔

حکومت کی نئی تجویز کے تحت ایسے طلبہ کے وظائف ختم کردئیے جائیں گے جن کے والدین کی سالانہ آمدنی۷؍ لاکھ ڈینش کرونر سے زیادہ ہے جبکہ ۴؍ لاکھ۱۹؍ ہزار۵۸۹؍ سے۷؍ لاکھ کرونر سالانہ آمدنی والے والدین کے بچوں کے وظائف میں بھی کمی کی جائے گی۔ڈنمارک کی وزارت برائے اعلیٰ تعلیم کے مطابق مجوزہ تبدیلیوں سے تقریباً۱۴؍ ہزار طلبہ وظائف سے محروم ہوجائیں گے جبکہ مزید۸؍ہزار طلبہ کی مالی امداد کم ہوجائے گی۔

طلبہ لیڈروں  کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کا تعلیمی نظام طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے دنیا کے مضبوط نظاموں میں شمار ہوتا ہے، وظائف میں کٹوتی سے نوجوانوں کے لیے تعلیم کا حصول مشکل ہوجائے گا۔یہ احتجاج فرانس سے شروع ہونے والی طلبا تحریک کا حصہ ہے جو حالیہ ہفتوں میں یورپ کے دوسرے ممالک تک پھیل چکی ہے، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بھی نوجوان مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور تعلیمی سہولتوں میں کمی کے خلاف احتجاج کرچکے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ تعلیمی وظائف میں مجوزہ کٹوتیوں سے بچنے والی رقم دفاعی اخراجات کے لیے مختص کی جاسکے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK