Updated: November 06, 2026, 3:06 PM IST
| Washington
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر منفی خبروں اور پریشان کن مواد کے بجائے خوشی، امید اور سیاسی جوش سے بھرپور پوسٹس دیکھنے کا نیا رجحان سامنے آیا ہے، جسے ’ہوپ اسکرولنگ‘ (Hopescrolling) کہا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مثبت مواد ذہنی دباؤ سے عارضی راحت دے سکتا ہے، تاہم مسلسل ایسی ہی پوسٹس دیکھنا بھی صارف کو الگورتھم کے بنائے ہوئے ایک محدود دائرے میں قید کرسکتا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا لفظ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے: ’ہوپ اسکرولنگ‘ (Hopescrolling)۔ ڈوم اسکرولنگ (Doomscrolling) کے برعکس اس رجحان میں صارفین مسلسل منفی خبروں، سیاسی کشیدگی اور پریشان کن واقعات دیکھنے کے بجائے ایسی پوسٹس، ویڈیوز، میمز اور تقاریر تلاش کر رہے ہیں جو انہیں خوشی، امید اور مثبت احساسات فراہم کریں۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی کامیابی کے بعد اس رجحان نے خاص طور پر زور پکڑا ہے اور نوجوان صارفین اس کی تشہیر میں پیش پیش ہیں۔ اس رجحان کے پیچھے امریکی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی ماحول ہے۔ ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی کے بعد ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر جشن منانا شروع کردیا۔ انتخابی کامیابی سے متعلق تقاریر کی ویڈیوز، مزاحیہ میمز، نیلے رنگ کے پس منظر پر امید کے پیغامات اور نئے منتخب رہنماؤں کے کلپس مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی رنگ نیلا ہونے کے باعث اس آن لائن جوش کو ’بلیو ویو‘ (Blue Wave) اور بعض صارفین نے ’بلیونامی‘ (Bluenami) کا نام بھی دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد نتھیا رمن لاس اینجلس کی میئر منتخب، ۵۱؍ فیصد حاصل کئے
سوشل میڈیا پر صارفین کے تبصرے اس تبدیلی کی شدت کا اندازہ دیتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’’امید کی ایک کرن محسوس کرنے پر ۹۱۱؍ پر فون کرنے کا دل چاہ رہا ہے۔‘‘ ایک اور نے کہا کہ ’’میرا جسم دوبارہ سیکھ رہا ہے کہ اچھی چیز ہونے پر کیسا محسوس ہوتا ہے۔‘‘ بعض صارفین نے اسے کئی برس بعد ملنے والی اجتماعی خوشی قرار دیا، جبکہ ایک تبصرے میں ’ہوپ اسکرولنگ‘ کو ایک دہائی بعد ملنے والی مثبت سوچ سے تعبیر کیا گیا۔ ان جملوں میں مزاح بھی ہے اور اس طویل سیاسی کشیدگی کے بعد راحت کا احساس بھی جسے بعض امریکی صارفین بیان کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو سمجھنے کے لیے ڈوم اسکرولنگ سے اس کا فرق جاننا ضروری ہے۔ ڈوم اسکرولنگ اس عادت کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی شخص بار بار منفی خبریں، جنگ، تشدد، سیاسی تنازعات، قدرتی آفات اور دیگر پریشان کن مواد دیکھتا رہتا ہے، حالانکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اس کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اس کے برعکس ہوپ اسکرولنگ میں صارف جان بوجھ کر ایسے مواد کی طرف جاتا ہے جو اسے حوصلہ دے، خوش کرے یا مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ پیدا کرے۔ اس میں کامیابیوں کی کہانیاں، متاثر کن تقاریر، مزاحیہ ویڈیوز، دوستوں کے مثبت پیغامات اور اجتماعی خوشی کے لمحات شامل ہوسکتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق مثبت مواد دیکھنا بعض حالات میں ذہنی دباؤ سے عارضی راحت فراہم کرسکتا ہے۔ ذہنی صحت کے ماہر میٹ گرامر نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ مثبت پوسٹس پڑھنا دوسروں سے رابطے کا ایک اچھا ذریعہ ہوسکتا ہے اور پریشان کن مواد سے ذہنی وقفہ فراہم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق کسی اچھی پوسٹ سے لطف اندوز ہونے میں بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی سرگرمیوں کے بعد ہوپ اسکرولنگ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مثبت خیالات بانٹنے کا موقع دے سکتی ہے۔ ماہر نفسیات اور ایگزیکٹو کوچ لارین ایپیو نے اس عمل کو مثبت جذبات کے نظم و ضبط (Positive Emotional Regulation) سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی شخص خوشی محسوس کر رہا ہو اور مزید ایسی چیزیں دیکھنا چاہے جو اس خوشی کو برقرار رکھیں تو یہ مثبت جذبات کو طول دینے کی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوستوں کے ساتھ میمز شیئر کرنا، ان کی پوسٹس کا جواب دینا اور باہمی گفتگو کرنا اس رجحان سے فائدہ اٹھانے کے بہتر طریقوں میں شامل ہے۔ بوسٹن چلڈرنز اسپتال کی کلینیکل ماہرِ نفسیات کینیشا سنکلیئر میک برائیڈ کے مطابق حیرت اور تحسین کے جذبات انسان کو اپنے سے بڑی کسی اجتماعی حقیقت کا حصہ محسوس کرا سکتے ہیں، جس سے سماجی تعلقات اور موڈ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ
اس کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر مثبت چیز دیکھنے کا مطلب لازماً بہتر ذہنی کیفیت نہیں ہوتا۔ ماہرِ نفسیات دیپیش پٹیل کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے محسوس ہونے والی امید اکثر مختصر مگر شدید ہوتی ہے۔ یعنی کسی کامیابی کی ویڈیو یا خوشی سے بھرپور پوسٹ سے فوری طور پر اچھا محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اس کا اثر حقیقی زندگی میں دیرپا تبدیلی کی ضمانت نہیں۔ میٹ گرامر نے یہ بھی متنبہ کیا کہ ہوپ اسکرولنگ بعض اوقات ’ایکو چیمبر‘ (Echo Chamber) میں تبدیل ہوسکتی ہے، جہاں صارف کو بار بار صرف وہی خیالات اور آرا دکھائی دیتی ہیں جن سے وہ پہلے ہی اتفاق کرتا ہے۔ نتیجتاً اسے یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ اس کے اردگرد ہر شخص اسی طرح سوچتا ہے اور تمام مسائل ختم ہوچکے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ادیتی بھلا نے بھی سوشل میڈیا الگورتھم کے کردار کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق پلیٹ فارمز کا بنیادی مقصد صارف کو زیادہ دیر تک اپنی ایپ پر مصروف رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے مثبت مواد بھی مسلسل اسکرولنگ کی عادت کو بڑھا سکتا ہے۔ صارف ایک اچھی پوسٹ دیکھنے کے بعد اگلی خوشگوار ویڈیو یا مزید حوصلہ افزا پیغام تلاش کرتا رہتا ہے اور یوں ذہن مسلسل متحرک رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وسط مدتی انتخابات میں جین زی امیدواروں کی تاریخ ساز کامیابی
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے شعبۂ نفسیات کی پروفیسر سوزن ٹیپرٹ نے بھی متنبہ کیا ہے کہ مثبت مواد بھی صارف کو اتنی ہی دیر تک اسکرین پر مصروف رکھ سکتا ہے جتنا منفی مواد۔ اس صورت میں سوشل میڈیا پر گزارا جانے والا وقت دیگر سرگرمیوں، حقیقی تعلقات اور روزمرہ ذمہ داریوں کے لیے دستیاب وقت کم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق مثبت مواد سے لطف اندوز ہونا مفید ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باعث مسلسل اسکرولنگ میں مبتلا ہوجانا مناسب نہیں۔