کانگریس پارٹی نے امریکی کمپنیوں ویزا اور ماسٹر کارڈ کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا، چارج فوراً واپس لینے کا مطالبہ ، حکومت کا انکار۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 1:11 PM IST | Agency | New Delhi
کانگریس پارٹی نے امریکی کمپنیوں ویزا اور ماسٹر کارڈ کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا، چارج فوراً واپس لینے کا مطالبہ ، حکومت کا انکار۔
ہندوستان میں تیزی سے مقبول ہونے والے ڈیجیٹل ادائیگی نظام یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) پر چارج عائد کرنے کی بحث نے سیاسی اور اقتصادی رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس معاملے کو صرف ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کی مالی پائیداری سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اس کے پیچھے امریکہ، خاص طور پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے دباؤ کا پہلو ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کے دبائو میں کیا ہے۔ امریکی حکومت نے ہندوستان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے یوپی آئی نظام کی وجہ سے امریکی کمپنیوں ’ویزا ‘اور ’ماسٹرکارڈ‘ ہندوستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم سے تقریباً باہر ہو گئے ہیں کیوں کہ ان پر ایم ڈی آر چارج عائد ہوتا ہے جبکہ یوپی آئی پر ایسا نہیں ہو تا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی حکمت عملی اور بڑھتی مقبولیت
یہ الزام کانگریس پارٹی بھی عائد کررہی ہے۔اس سلسلے میں معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے تقریباً ایک ماہ قبل ہی یہ رپورٹ دی تھی کہ حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے دبائو میں یوپی آئی پر چارج لگانے کی تیاری کررہی ہے۔حالانکہ مودی حکومت نے کسی بھی دبائو سے صاف انکار کیا ہے لیکن یہ چارج واپس لینے سے انکار بھی کردیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی حکومت گزشتہ کئی برس سے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام یعنی یوپی آئی پر اعتراض کرتی رہی ہے۔ امریکی موقف رہا ہے کہ ہندوستان کا موجودہ نظام مقامی کمپنیوں، خصوصاً روپے اور یو پی آئی، کو امریکی ادائیگی کمپنیوں ویزا اور ماسٹرکارڈ کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔یوپی آئی کے آغاز کے بعد ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کا منظرنامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ صارفین کو بغیر کسی اضافی فیس کے فوری ادائیگی کی سہولت ملنے کے باعث نقد رقم اور کارڈ کی جگہ یو پی آئی نے بڑی حد تک لے لی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ویزا اور ماسٹرکارڈ جیسی عالمی ادائیگی کمپنیوں کے کاروبار پر پڑا ہے کیونکہ ان کے روایتی کاروباری ماڈل میں ہر لین دین سے فیس حاصل ہوتی ہے۔دہلی میں قائم تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے مطابق ویزا اور ماسٹرکارڈ کو ہندوستان میں یو پی آئی اور روپے کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نقصان پہنچا ہے۔ یو پی آئی پر صفر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہونے کی وجہ سے بینکوں، پیمنٹ پروسیسرز اور کارڈ نیٹ ورکس کے لیے لین دین سے فیس حاصل کرنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب روپے ایک ہندوستانی کارڈ نیٹ ورک ہونے کے باعث عالمی امریکی ادائیگی کمپنیوں کے لیے ایک مضبوط مقامی متبادل بن کر سامنے آیا ہے۔امریکی حکومت نے رواں سال مارچ میں ہندوستان کی ڈیجیٹل ادائیگی پالیسیوں کو ’غیر ملکی تجارتی رکاوٹ‘ قرار دیا تھا۔ امریکی تجارتی نمائندوں نے خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ امریکی الیکٹرانک ادائیگی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو یو پی آئی کے پورے ماحولیاتی نظام میں روپے کے برابر مواقع حاصل نہیں ہیں۔ ان نمائندوں کے مطابق امریکی کمپنیوں کو یو پی آئی پر کریڈٹ ٹرانزیکشن سمیت مختلف شعبوں میں برابری کی بنیاد پر حصہ لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہندوستان میں تھرڈ پارٹی یو پی آئی ایپس کے لئے ۳۰؍ فیصد مارکیٹ شیئر کی حد بھی امریکی اعتراضات میں شامل رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے بیشتر لین دین پر عملی طور پر دو امریکی ملکیت والی ایپس کا غلبہ ہے۔ دسمبر ۲۰۲۵ء تک والمارٹ کی حمایت یافتہ فون پے اور گوگل پے نے مجموعی طور پر یو پی آئی کے ۸۰؍ فیصد سے زیادہ لین دین انجام دئیے تھے۔ اس کے باوجود امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے ادائیگی خدمات فراہم کرنے والوں کو ہندوستانی نظام میں برابری کے مواقع نہیں مل رہے۔امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی مذاکرات کے دوران ڈیجیٹل شعبہ بھی اہم موضوعات میں شامل رہا ہے۔ ہندوستان پہلے ہی امریکی مطالبات کے مطابق بعض اقدامات کر چکا ہے۔ گزشتہ بجٹ میں ہندوستان نے ملک میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو ۲۰۴۷ءتک ٹیکس میں رعایت دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسے امریکی ٹیک کمپنیوں کے اہم مطالبات میں سے ایک سے جوڑا گیا تھا۔اسی پس منظر میں یو پی آئی پر فیس وصول کرنے کی قانونی گنجائش پیدا کرنے کے فیصلے نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا ہندوستان امریکی ادائیگی کمپنیوں کے تحفظات دور کرنے کی سمت میں بھی قدم بڑھا رہا ہے؟ واضح رہے کہ ہندوستان کا یو پی آئی دنیا کے سب سے بڑے فوری ادائیگی نظاموں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ صارفین اور چھوٹے تاجروں کے لئے ادائیگی تقریباً مفت ہے۔ یہی صفر فیس والا ماڈل اسے روایتی کارڈ نیٹ ورکس سے مختلف بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدہ کا آئندہ ماہ سے نفاذ
’’مودی جی کچھ تو ہمت دکھائیے اور ٹیکس واپس لیجئے ‘‘
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو پی آئی ادائیگیوں پر حکومت کی جانب سے عائد ’ایم ڈی آر ٹیکس‘ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر ویڈیو پیغام جاری کرکے کہا کہ ’’ مودی حکومت نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک د ئیے ہیں ۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں اندرا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک بار اندرا جی سے پوچھا گیا تھا کہ وہ بائیں طرف ہیں یا دائیں طرف۔ اس پر اندرا جی نے کہا تھا کہ میں تن کر کھڑی رہتی ہوں لیکن نریندر مودی کا تصور بالکل مختلف ہے، وہ نہ بائیں ہیں اور نہ دائیں، انہوں نے براہ راست ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے لیٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مودی جی نے یو پی آئی پر ٹیکس لگا کر ہر ہندوستانی پر ٹیکس لگا دیا ہے اور وہ رقم امریکہ کو دے دی ۔ اسی لئے میں کہہ رہا ہوں کہ مودی جی کچھ تو ہمت دکھائیں اور ٹیکس واپس لیں۔