Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرٹیمس دوم: تاریخی ریکارڈ، چاند کے گرد چکر کے بعد خلابازوں کا زمین کی طرف سفر

Updated: April 07, 2026, 10:13 PM IST | Washington

ناسا کے آرٹیمس دوم مشن نے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے انسانوں کو زمین سے سب سے زیادہ دور پہنچا دیا۔ چار خلابازوں نے چاند کے گرد پرواز مکمل کی اور اب زمین کی واپسی کے مرحلے میں ہیں۔ مشن کو مستقبل میں چاند اور مریخ پر انسانی مہمات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کی کامیابی کو بڑی سائنسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Astronauts aboard the Artemis II mission. Photo: X
آرٹیمس دوم مشن پر سوار خلاباز۔ تصویر: ایکس

ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس کے آرٹیمس دوم مشن پر سوار خلابازوں نے تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک سفر کیا اور اب کامیابی کے ساتھ واپسی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس مشن نے نہ صرف سائنسی اعتبار سے نئی راہیں کھولی ہیں بلکہ مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کی ہے۔ ناسا کے مطابق، اورین خلائی جہاز تقریباً ۴۰۶۷۷۱؍ کلومیٹر) کی دوری تک پہنچا، جو اس سے قبل اپولو ۱۳؍ مشن کے خلابازوں کے قائم کردہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ یہ کامیابی انسانی خلائی سفر کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ تقریباً نصف صدی بعد انسان دوبارہ گہرے خلا میں اس حد تک پہنچے ہیں۔
اس تاریخی مشن میں شامل چار خلاباز ویڈ وائس مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور جیریمی ہینسن نے چاند کے گرد کامیاب فلائی بائی مکمل کیا۔ مشن کے دوران انہوں نے چاند کے دور دراز حصے کا مشاہدہ کیا اور خلا سے ایک نایاب سورج گرہن بھی دیکھا، جو زمین سے ممکن نہیں ہوتا۔ خلائی جہاز نے چاند کے قریب ترین مقام پر تقریباً ۶۵۴۵؍ کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کی، جس کے بعد اس نے زمین کی جانب واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ انتہائی حساس ہوتا ہے کیونکہ واپسی کے دوران رفتار، درجہ حرارت اور نیویگیشن کا درست ہونا بے حد ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آرٹیمس -۲ ؍میں خلا باز اپنے ساتھ ’کھلونا‘ کیوں لے گئے؟

ناسا نے تصدیق کی ہے کہ اورین خلائی جہاز کے تمام سسٹمز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور زمین پر واپسی کے لیے ری انٹری کی تیاری جاری ہے۔ مشن ٹیم مسلسل خلائی جہاز کی رفتار، حرارت اور مدار کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ بحفاظت لینڈنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، کیپسول کی واپسی کے بعد بحرالکاہل میں اسپلش ڈاؤن متوقع ہے، جہاں ریکوری ٹیمیں پہلے سے تعینات ہیں۔ اس مشن کو آرٹیمس پروگرام کے تحت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد انسانوں کو دوبارہ چاند پر اتارنا اور طویل مدتی خلائی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرٹیمس دوم، آرٹیمس سوم کے لیے راستہ ہموار کرے گا، جس میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا پہلا ایسٹر پیغام، عالمی لیڈروں کو جنگ چھوڑ کر امن اپنانے کی اپیل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلابازوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے مشن کی تعریف کی اور اسے مستقبل کے خلائی سفر، خاص طور پر مریخ مشن کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ مشن ہمیں چاند پر واپسی اور اس سے آگے مریخ تک جانے کی راہ دکھا رہا ہے۔‘‘ عالمی سطح پر اس مشن کو سائنسی کامیابی کے طور پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انسانیت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے، جہاں چاند اور مریخ کی جانب انسانی مہمات مزید حقیقت کے قریب آ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK