Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوپ لیو کا پہلا ایسٹر پیغام، عالمی لیڈروں کو جنگ چھوڑ کر امن اپنانے کی اپیل

Updated: April 06, 2026, 9:58 PM IST | Vatican City

پوپ لیو نے اپنے پہلے ایسٹر سنڈے خطاب میں عالمی لیڈروں سے جنگوں کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ سینٹ پیٹرس بیسیلیکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ہتھیار ڈالنے اور مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ’’بے حسی کی عالمگیریت‘‘ کا شکار ہو رہی ہے، جہاں انسانیت تشدد اور اموات پر خاموش ہوتی جا رہی ہے۔

Pope Leo. Photo: INN
پوپ لیو۔ تصویر: آائی این این

کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ایسٹر سنڈے پیغام میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور جنگی ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی لیڈروں سے امن کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرس بیسیلیکا کی بالکونی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو فوری طور پر تشدد کے دائرے سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’جن کے پاس ہتھیار ہیں وہ انہیں چھوڑ دیں، اور جن کے پاس جنگ چھیڑنے کی طاقت ہے وہ امن کا انتخاب کریں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی امن طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف بات چیت، سمجھوتے اور باہمی احترام کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا سخت ردعمل، صحت کے شعبے پر حملوں کی مذمت، عالمی خدشات

تازہ عالمی حالات کے تناظر میں یہ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور تنازعات نے انسانی جانوں کا بڑا نقصان کیا ہے۔ پوپ نے کہا کہ دنیا آہستہ آہستہ تشدد کی عادی بنتی جا رہی ہے اور لوگ ہزاروں اموات، نفرت اور تقسیم کے بڑھتے ہوئے اثرات پر خاموشی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ’’بے حسی کی عالمگیریت‘‘ (globalisation of indifference) کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت اب دوسروں کے دکھ درد سے لاتعلق ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے، اور نہ ہی خود کو برائی کے حوالے کر سکتے ہیں۔‘‘ 
مزید برآں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طاقت، غلبہ اور تسلط کی خواہش کو ترک کرے اور ایک ایسے نظام کی طرف بڑھے جہاں تنازعات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں صرف تباہی، معاشی بدحالی اور سماجی تقسیم کو جنم دیتی ہیں، جبکہ امن ترقی اور استحکام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی کمانڈر ہلاک، اسرائیل کے اخراجات بڑھے، سیٹیلائٹ نگرانی محدود

یاد رہے کہ پوپ لیو نے مئی میں کیتھولک چرچ کی قیادت سنبھالی تھی، اور ان کا یہ پہلا بڑا عالمی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کے ابتدائی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی قیادت کے دوران امن، مکالمے اور انسانی ہمدردی کو مرکزی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات عالمی سیاست پر فوری اثر تو نہیں ڈالتے، لیکن یہ عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور اخلاقی دباؤ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگی کشیدگی بڑھ رہی ہے، مذہبی اور اخلاقی قیادت کی اپیلیں اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK